Pakistan Writers Welfare Association

شاعری میں نئے مضامین کے حصول کے طریقے منفرد قافیہ و ردیف کے تقاضے تحریر: شہزاد احمد کھرل

25

نئے سیکھنے والے دوست پرانے مضامین کو اپنے لفظوں میں ادا کرنے سے، اپنی مشق کا آغاز کرتے ہیں۔ پھر جب وہ اس میدان میں ذرا پختہ ہو جاتے ہیں تو کسی کے توجہ دلانے سے یا خود ہی اپنے کلام میں نئے مضامین کی تشنگی محسوس کرنے لگتے ہیں۔ اگرچہ برتے جا چکے مضمون کو منفرد پیرائے میں، منفرد طریقہ اظہار کے ساتھ پیش کیا جائے، تو قاری اس میں بھی تازگی محسوس کرتا ہے اور شاعر کے انداز بیان سے لطف اندوز ہوتا ہے لیکن نئے مضامین پر مشتمل اشعار، کلام کی زینت ہوتے ہیں اور صرف عوام ہی نہیں بلکہ خواص بھی

 

ان پر داد دیئے بغیر نہیں رہ سکتے۔
اب مسئلہ یہ ہے کہ نئے مضامین کہاں سے لائے جائیں اور منفرد طریقہ اظہار کیسے اپنایا جائے؟
مضامین کی آمد میں ذاتی مطالعے، مشاہدے،فہم و فراست، رجحان اور عطائے ربی وغیرہ کا دخل ہوتا ہے سو اس تحریر کو اپنے مطالعے اور مشاہدے کا حصہ سمجھ لیں۔

 

تین طریقے:

 

سب سے پہلاطریقہ #منفردقافیہوردیفکا_انتخاب ہے۔
ایک ایسے قافیے کا انتخاب جس پر پہلے کوئی خیال موزوں نہیں ہوا، آپ کو کچھ نیا سوچنے پر مجبور کرے گا۔ اسی طرح منفرد ردیف بھی نیا سوچنے کی ترغیب دیتی ہے۔
مثال کے طور پر:
ہم سے تو یہ گٹھڑی بھاری ہے

 

(مصرع کچھ خاص نہیں لیکن وقتی طور پر یہی ذہن میں آیا)

 

اب قافیے لائیں۔

پگڑی، تگڑی، تکڑی، الڑی، وغیرہ

اب آپ "پگڑی” کو لے کر مضمون سوچنا شروع کرتے ہیں۔ ایک تو یہ، کہ ممکن ہے آپ کے کلام میں پگڑی کو لے کر کوئی شعر نہ ہوا ہو، دوسرا یہ کہ ردیف(بھاری ہے) آپ کے لیے ایک نئی جہت مقرر کر رہی ہے۔ اور آپ کو پابند کر رہی ہے کہ آپ کسی مشکل کام کی نشان دہی کریں قافیہ اور ردیف مل کر (پگڑی بھاری ہے) تقاضا کرتے ہیں کہ کوئی ایسا مضمون لائیں جس میں آپ بتا رہے ہوں کہ سرداری کرنا، قیادت کرنا یا کسی مہم کی ذمہ داری قبول کرنا آسان کام نہیں ہوتا اسی صورت میں آپ کہہ سکتے ہیں۔ "پگڑی بھاری ہے” (یہ محض سمجھانے کے لیے ہے ورنہ مشاق شاعر بالکل متضاد مضمون بھی لا سکتا ہے)

 

اسی طرح تکڑی (ترازو) کو لے کر آپ ایک مضمون سوچنا شروع کریں۔ تو یہ لفظ اپنے معنی و مفہوم کے مطابقت سے عدل اور انصاف سے متعلق مضمون کا تقاضا کرتا ہے۔ اور پھر ردیف مل کر "تکڑی بھاری ہے” آپ کے لیے جہت متعین کر رہی ہے کہ ایسا مضمون لائیں کہ کچھ لوگوں یا رشتوں میں انصاف کرنا، دو فریقوں کے درمیان منصفی کرنا یا اپنے ہی دماغ و دل کے مابین جاری کشمکش میں عدل پر مبنی فیصلے تک پہنچنا ایک مشکل امر ہے۔

 

 

یہ بات تو سمجھ میں آ گئی کہ منفرد قافیہ اور ردیف کا انتخاب نئے مضامین لانے کا ایک ذریعہ ہو سکتا ہے لیکن اس مضمون کا بنیادی مقصد یہ بات سمجھانا ہے کہ جب آپ نئی اور منفرد ردیف کا انتخاب کرتے ہیں تو آپ کو ردیف کے تقاضوں کو بھی سمجھنا چاہیے۔ اسی صورت میں آپ منفرد ردیف سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں اور نئے مضامین نکال سکتے ہیں۔

 

منفرد یا قدرے طویل ردیف ایک نئی جہت مہیا کرنے کے ساتھ ساتھ قدغن بھی لگاتی ہے کہ مضامین ایک خاص دائرے سے باہر نہ جائیں۔ آسان لفظوں میں یوں سمجھیں کہ آپ نے ایک زمین میں جتنے بھی اشعار کہنے ہیں ہر شعر کے تقریبا ایک بٹا چار حصے کا تعین آپ ردیف کی صورت میں پہلے سے کر چکے ہیں۔ یعنی ہر شعر کے دو مصرعوں میں سے تقریبا آدھا مصرع تو آپ نے لازم کر لیا کہ ردیف ہی ہو گی۔ اب آپ اس آدھے مصرعے کے پابند ہو گئے۔ کہ ہر صورت، اسے شعر میں درست بٹھانا ہے اس لیے ضروری ہے کہ باقی ڈیڑھ مصرع اس آدھے مصرعے کے ساتھ مطابقت رکھتا ہو ورنہ شعر درست نہیں ہو گا۔

 

 

میں شاعری کا کورس کراتا ہوں اس دوران میں دوست اپنی کاوشیں اصلاح کے لیے بھیجتے ہیں میرا مشاہدہ ہے کہ نئے شعرا ایک مشکل ردیف کا انتخاب تو کر لیتے ہیں لیکن پھر ردیف کی بنائی گئی باڑ کو پھلانگتے رہتے ہیں گویا ان کے ذمے صرف قافیہ نبھانا ہے ردیف تو کوئی چیز ہے ہی نہیں۔ ایسی صورت میں ردیف اپنی افادیت کھو کر شعر پر بوجھ محسوس ہونے لگتی ہے جب ان سے کہا جاتا ہے کہ آپ اس شعر میں ردیف نہیں نبھا سکے تو پوچھتے ہیں کہ ردیف نبھانا کیا ہوتا ہے؟۔

 

معانی کا ادراک:

 

ہر لفظ اپنا مستقل معنی رکھتا ہے اور بعض الفاظ ایک سے زیادہ حقیقی اور مجازی معانی رکھتے ہیں مشق کی ابتدا کرنے سے پہلے ردیف میں موجود ہر لفظ کے حقیقی اور مجازی معانی ذہن نشین کر لینے چاہیے یا کم از کم ردیف جن الفاظ پر مشتمل ہے ان الفاظ کے مجموعے کے حقیقی اور مجازی معنیٰ و مفہوم کا ادراک ضرور ہونا چاہئیے جیسے اوپر مذکورہ مثال میں ردیف "بھاری ہے” کا حقیقی معنی یہ ہے کہ آپ کسی زیادہ وزن رکھنے والی چیز کے بارے میں بات کر رہے ہیں اور مجازی معنی یہ ہے کہ کسی مشکل کام یا ذمہ داری کی بات ہو رہی ہے۔

ردیف کا مقصد:

ردیف شعر کی خوبصورتی بڑھانے کے لئے استعمال ہوتی ہے اگر واقعی ردیف کی مطابقت سے مضمون لایا گیا ہو، تو قاری یا سامع اس سے لطف اندوز ہوتا ہے قاری شعر پڑھتا ہوا جب قافیے تک پہنچتا ہے تو ردیف اس کی زبان پر خود بخود جاری ہو جاتی ہے کیونکہ قافیے پر پہنچ کر مضمون انہی الفاظ کی کمی محسوس کر رہا ہوتا ہے جو ردیف میں موجود ہیں۔

مشاعروں میں دیکھا گیا ہے کے اگر ردیف کو اچھے طریقے سے نبھایا گیا ہو تو سامعین اس قدر لطف اندوز ہوتے ہیں کہ شاعر کے قافیے تک پہنچنے پر سامعین بھی شاعر کے ساتھ ردیف دہرانے لگتے ہیں اور بعض اوقات تو مضمون کی بندش ایسی شاندار ہوتی ہے کہ اگر شاعر قافیہ پڑھنے سے پہلے ہی خاموش ہو جائے تو سامعین کے لئے قافیہ بوجھ لینا مشکل نہیں ہوتا۔

عمدہ مطلع:

ردیف کے پیشِ نظر سب سے مشکل امر مطلع کہنا ہے کہ مطلعے کے دونوں مصرعوں میں ردیف دہرائی جاتی ہے۔ اچھا مطلع یہ ہے کہ شعر کے دونوں مصرعوں میں ردیف کا وجود ضروری معلوم ہو (ایک ردیف زائد محسوس نہ ہو) اور اگر ممکن ہو تو ایک مصرعے میں ردیف اپنے حقیقی معنی میں اور دوسرے مصرعے میں مجازی یا اصطلاحی معنی میں استعمال ہوئی ہو۔(یعنی دونوں مصرعوں میں مختلف معنوں میں استعمال ہوئی ہو) کہا جاتا ہے کہ جسے مطلع کہنا آ گیا سمجھیں کہ وہ اچھا شاعر بن گیا۔

مثلاً:

ً آپ لفظ "اور” کو ردیف چنتے ہیں یہ کئی معنوں میں استعمال ہوتا ہے جیسے دو لفظوں یا جملوں کے درمیان حرف عطف کے طور پر۔
"مزید” کے معنی میں جیسے "اور اونچا پڑھو” مطلب مزید اونچا پڑھو۔

"منفرد اور مختلف ہونے” کے معنی میں جیسے "آپ کی تو بات ہی اور ہے” مطلب آپ کی تو بات ہی الگ ہے۔
ایک لفظ کو مختلف معنوں میں استعمال کر کے کلام کو دلپزیر بنایا جا سکتا ہے لیکن شعر میں اس معنی کا جواز موجود ہونا چاہیے۔
بات سمجھانے کے لیے دو شعر وضع کیے ہیں، ملاحظہ کریں:

مدہوش ہوں میں دیکھ کے آنکھوں کی ادا، اور
ہونٹوں کی کہوں کیا کہ ہے ان میں تو نشہ اور
زلفیں ہیں کہ باندھیں ہیں مجھے عہدِ وفا میں
پلکیں ہیں کہ دیتی ہیں رہائی کی دعا اور

مطلعے کے پہلے مصرعے میں "اور” حرفِ عطف کے طور پر استعمال ہوا ہے اور دوسرے مصرعے میں "مزید” کے معنی میں یا الگ اور منفرد کے معنی میں۔ یعنی میں آنکھوں کی ادا دیکھ کر مدہوش ہوں اور ہونٹوں کی کیا کہوں کہ ان میں مزید نشہ ہے۔ دوسرے مصرعے میں "اور” کو مزید کے معنی میں استعمال کرنے کے لئے دونوں مصرعوں میں خاص مطابقت رکھی گئی ہے۔
جب کہ دوسرے شعر میں ردیف "اور” کا کسی بھی معنیٰ میں استعمال ہونے کا جواز موجود نہیں ہے مضمون اس کے بغیر مکمل ہے اور ردیف زائد ہے۔ مزید کچھ مطلعے ملاحظہ فرمائیں۔

 

ہم نے تصویر زندگانی کی
خاک میں رول کر پرانی کی

 

پہلے مصرعے میں "کی” حرف اضافت ہے اور دوسرے میں کرنا سے ماضی کا صیغہ۔

کہا تھا دور رہنا عاشقوں سے
پھرو گلیوں میں اب یوں پاگلوں سے

پہلے مصرعے میں "سے” حرفِ ربط ہے اور دوسرے مصرعے میں حرفِ تشبیہ۔

اس کی پلکوں پہ دو حسیں سے دیے
رب نے انمول ہیں کہیں سے دیے

پہلے مصرعے میں "دیے” دیپ کے معنی میں اور دوسرے مصرعے میں دینا سے ماضی کا صیغہ۔ "سے” بھی مختلف معنوں میں ہے۔

بزمِ ساقی ہے بھیڑ سے دوچار
نکلے دو ایک، آ ملے دو چار

پہلے مصرعے میں دوچار بمعنیٰ مبتلا ہونا اور دوسرے مصرعے میں گنتی والے دو چار بمعنیٰ چند ایک۔

بھی اور ہی میں فرق:

"بھی” افراد کو شامل کرنے کے لئے استعمال ہوتا ہے

اور "ہی” حرفِ حصر و تخصیص ہے۔
چھت پر اپنی، چاند ہے نکلا تم بھی دیکھو
کتنا پیارا ہے یہ نظارہ تم بھی دیکھو
مجھ کو تو نفرت ہے ایسے لوگوں سے
اس منحوس کا بھدا چہرہ تم بھی دیکھو

 

اب دونوں اشعار میں "بھی” کی جگہ "ہی” لگا کر پڑھیں آپ محسوس کریں گے کہ مطلعے کے دونوں مصرعوں میں "بھی” کا استعمال ہی درست تھا یعنی ایک اچھا نظارہ میں دیکھ رہا ہوں تم بھی دیکھ لو شاعر نے مخاطب کی تخصیص کا کوئی جواز شامل نہیں کیا کہ وہ کہنا چاہتا ہو کہ ایسا نظارہ اور کوئی نہ دیکھے خاص طور پر تم ہی دیکھو۔ وہ تو صرف مخاطب کو اس عمل میں شامل کرنا چاہتا ہے۔

 

جبکہ دوسرے شعر میں شاعر نے مخاطب کی تخصیص کا جواز یہ کہہ کر پیدا کیا ہے کے مجھے تو ایسے لوگوں سے نفرت ہے میں تو اس کا چہرہ دیکھنا نہیں چاہتا اس لیے "تم ہی دیکھو”۔ لہذا دوسرے شعر میں "بھی” کا نہیں "ہی” کا محل ہے۔

 

اسی طرح اگر ردیف میں حروف استفہام (کیا کیوں کیسے کون وغیرہ) میں سے کوئی شامل ہو گا تو ظاہر ہے مضامین سوالات پر مشتمل ہوں گے۔

 

پھر اسی طرح حروف شرط، حروف ندا، حروف تاسف، حروف تشبیہ، حروف تحسین، حروف نفرین، حروف علت وغیرہ میں سے اگر کسی کو ردیف میں شامل کیا جائے گا تو مضامین کا انتخاب کرتے ہوئے اس لفظ کی مناسبت کا لحاظ رکھا جائے گا۔ مضمون کو بہتر طور پر سمجھنے کے لیے یوٹیوب پر شہزاد احمد کھرل لکھ کر میرا ویڈیو لیکچر سرچ کریں۔

 

جیسا کہ عرض کیا گیا ہے کہ اس تحریر کا مقصد انوکھی اور طویل ردیف کو نبھانے سے متعلق گفتگو کرنا ہے لہذا نئے مضامین کے حصول کے بقیہ دو طریقے اگلے مضمون میں پیش کیے جائیں گے۔

 

نوٹ: تحریر تقریباً ذاتی خیالات پر مشتمل ہے۔ مثالیں بھی اپنے کلام سے پیش کی ہیں انہیں محض بات سمجھانے کے لیے دی گئی مثالیں ہی سمجھا جائے اعلی شاعری کی کسوٹی پر نہ تولا جائے۔

شہزاد احمد کھرل

جلال پور جٹاں گجرات

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.