Pakistan Writers Welfare Association

مکالمہ کیسے لکھا جاتا ہے؟ مکالمہ کے موضوع پر ایک تحریر تحریر ۔ انور غازی

How is a dialogue written? An essay on the subject of dialogue Writing Anwar Ghazi

25

مکالمہ کیسے لکھا جاتا ہے؟ / آئیے مکالمہ کریں

 

ادب اورصحافت کی ایک قسم مکالمہ نگاری بھی ہے۔ اس تحریر میں ہم صحافت کی اسی صنف پر روشنی ڈالیں گے۔ ڈائیلاگ (Dialogue) اور مکالمے کے لفظی معنی ”باہم ہم کلام ہونا ہے۔“ ڈائیلاگ (Dialogue) اور مکالمے کی اصطلاحی تعریف یوں کی جاتی ہے: ”دو یا دو سے زائد افراد آپس میں گفتگو اور بات چیت کریں۔“ مکالمہ دو ملکوں اور دو قوموں کے مابین بھی ہوتا ہے اور صحافیوں کے درمیان بھی ہوتا ہے۔

 

 

اس وقت ٹاک شو اور ٹی وی چینل پر جو ”اوپن ڈبیٹ“ (Open Debat) ہورہی ہے، وہ بھی مکالمے کی جدید شکل ہی ہے۔

 

مکالمے کے چند اصول اور آداب ہیں۔ پہلی بات یہ ہے کہ مکالمہ ہمیشہ برابری کی سطح پر ہوتا ہے۔ مکالمے کو لکھتے وقت عام اور سادہ بول چال کے انداز میں لکھنا چاہیے۔

 

مکالمے کا ایک اصول یہ ہے کہ جو کچھ کہا جائے وہ مختصر، واضح اور موضوع کے مطابق ہو۔ مکالمے کو ہمیشہ کسی منطقی انجام تک پہنچایا جاتا ہے۔ درمیان میں نہیں چھوڑنا چاہیے۔

 

مکالمے کی زبان، شگفتہ، دلچسپ اور واضح ہونی چاہیے، جبکہ لب و لہجہ اور اندازِ گفتگو شائستہ ہو۔ مکالمے میں مخاطب کے مقام اور مرتبے کا پورا پورا لحاظ رکھا جائے۔ تہذیب و اخلاق کے معیار سے گرا ہوا کوئی لفظ اور جملہ نہیں بولنا چاہیے۔ اس وقت عالمی، ملکی، قومی اور نجی سطح پر مکالمے کی جتنی ضرورت ہے، پہلے کبھی نہ تھی۔

 

ڈائیلاگ کی ایک مثال:

 

کہانیوں، ڈاکومنٹریوں اور پروگراموں میں جو ڈائیلاگ، جملے اور فقرے بولے جاتے ہیں، پہلے انہیں لکھا جاتا ہے۔ اصل کمال لکھنے والے کا ہوتا ہے۔

 

تمام فلمیں، ڈرامے اور کہانیاں پہلے لکھی جاتی ہیں۔ پہلے اسکرپٹ لکھا جاتا ہے، اس کے بعد کہیں جاکر انہیں مختلف طریقوں سے فلمایا جاتا ہے۔ اس کا پورا اور لمبا چوڑا ”پراسیس“ (Process) ہے۔ یہ لکھنے سے تعلق رکھتا ہے، جبکہ کسی پروگرام، ڈرامے اور فلم کی شوٹنگ دیکھنے سے تعلق رکھتی ہے۔

 

کسی پروگرام، ڈرامے اور فلم کی شوٹنگ دیکھنے سے بات واضح اور آسانی کے ساتھ سمجھ میں آجائے گی۔

 

”مکالمہ نگاری“ میں اس بات کا بھی خیال رکھا جاتا ہے کہ مکالمہ کی جگہ کون سی ہے؟ مثال کے طور پر مکالمہ ٹی وی کے اسٹوڈیو میں ہورہا ہے یا مسجد کے صحن میں؟ مکالمہ کسی گاﺅں دیہات میں ہورہا ہے یا فائیو اسٹار ہوٹل میں؟

 

مکالمے کی ڈسٹی نیشن (Destination) کیا ہے؟ یونیورسٹی کے آڈیٹوریم میں ہورہا ہے یا کھلے میدان میں؟ ساحل سمندر پر ہورہا ہے یا کسی دوراہے، چوراہے پر؟ کسی تفریحی مقام پر ہورہا ہے یا کسی ہسپتال میں؟ مکالمہ جس قسم کی جگہ پر منعقد ہورہا ہے، اسی جگہ کے اعتبار سے مکالمے میں منظرکشی ہوگی۔

 

مثال کے طور پر اگر مکالمہ کسی دیہات میں ہورہا ہے تو کھیت، درخت، جانور، چارپائی، نلکا وغیرہ کے مناظر مکالمے میں شامل ہوں گے، اور اگر مکالمہ کسی فائیو اسٹار ہوٹل کے خوبصورت آڈیٹوریم میں ہورہا ہے

 

تو اسی اعتبار سے مکالمے میں منظرکشی کی جائے گی۔ مکالمے میں اس بات کا بھی لحاظ کیا جائے کہ مکالمہ کن شخصیات کے مابین ہورہا ہے؟ اگر دو کلاس فیلوز کے درمیان ہورہا ہے تو پھر اسی لحاظ سے بے تکلفانہ مکالمہ لکھا جائے گا۔ اگر ایک بڑے بزرگ اور ایک چھوٹے کے درمیان ہورہا ہے تو مکالمے میں حفظِ مراتب کا لحاظ رکھا جائے گا۔

 

مثال کے طور پر اگر مکالمہ داداجان اور اس کے پوتے یا استاذ اور شاگرد کے مابین ہورہا ہے تو داداجان اور استاذ کے مرتبے کا لحاظ رکھتے ہوئے القابات لکھے جائیں گے۔ وقت کی پابندی کے حوالے سے شاگرد اور استاذ کے مابین ہونے والا ایک مکالمہ نمونے کے طور پر ملاحظہ فرمائیں۔

 

استاذ: ”کیا بات ہے ؟ آج بہت دیر سے آرہے ہو!“
شاگرد: ”معافی چاہتا ہوں استاذ جی ! دراصل میں فجر کے بعد سوگیا تھا، اس لیے وقت پر تیار ہو کر پہنچنے میں دیر ہوگئی۔“
استاذ:” کیوں! دیر سے جاگنے کی کیا وجہ تھی ؟ طبیعت تو ٹھیک ہے نا؟“

 

شاگرد: ”آپ کی دعا سے بالکل ٹھیک ہوں ، بس رات چونکہ دیر سے سویا تھا، اس لیے فجر کے بعد پھر سوگیا۔“
استاذ: ”دیر سے کیوں سوئے تھے ؟ روزانہ دیر سے سوتے ہو یا صرف آج ہی ایساہوا ؟“

 

شاگرد:” جناب ! یہ تو میرا روز کا معمول ہے۔ رات کو دیر تک پ©ڑھتا ہوں، اس لیے صبح فجر کے بعد سونے کی عادت ہے۔“
استاذ: ”تو گویا نہ فجرکے بعد تلاوت ، نہ صبح کی سیر، اس کا مطلب یہ ہوا کہ صحت کا دیوالیہ نکالنے کے ارادے ہیں۔“
شاگرد: ”استاذ جی ! کیا کروں؟ اگر رات کو پڑھائی نہ کروں تو بات کیسے بنے گی؟“

 

استاذ: ”ارے بندئہ خدا ! پڑھنے سے کون روکتاہے؟ لیکن یہ کون سی عقلمندی ہے کہ آدمی نہ وقت پر سوئے نہ وقت پر جاگے ۔ ابھی کل ہی تو آپ لوگ وقت کی پابندی پر مضمون لکھ رہے تھے۔“

 

شاگرد: ”آپ کا ارشاد بجا ہے۔ اب آپ ہی کوئی مشورہ دیں کہ میں پڑھائی کا کیا نظام الاوقات بناوں ؟“

 

استاذ: ”دیکھو ! ہر کام کو وقت پر کرنے کی عادت ڈالو۔ یہ زندگی کا بہترین اصول ہے ۔ تعلیم کا یہی تو فائدہ ہے کہ وہ ہم میں شعور پیدا کرتی ہے ۔ وقت کی قدر کرنا سکھاتی ہے ا ور ہماری عادات میں باقاعدگی پیدا کرتی ہے۔“

 

شاگرد:” آپ کا مطلب یہ ہے کہ مجھے مدرسے کی طرح گھر پر بھی ” نظام الاوقات“ کے مطابق زندگی گزارنی چاہیے۔“

 

استاذ :”ہاں ! اسی میں کامیابی کا راز ہے ۔ اچھا طالب علم وہی ہے جو وقت کا پابند ہو۔ جس کے سونے، جاگنے، کھانے، پڑھنے اور کھیلنے کے اوقات مقرر ہوں۔ جس کے روز مرہ کے تمام معمولات میں باقاعدگی پائی جائے ۔“

 

شاگرد:” استاذجی! آپ کے قیمتی مشوروں کا بہت بہت شکریہ ۔ میں ان شاءاللہ ان پر پورا پورا عمل کروں گا۔ “

 

دیکھیں! درج بالا مکالمے میں مکالمہ لکھنے والے نے استاذ کے مرتبے کا لحاظ کرتے ہوئے استاذ کے لیے عمدہ الفاظ کا چناﺅ کیا ہے۔ اسی طرح جن دو یا دو سے زائد افراد کے درمیان مکالمہ ہورہا ہے ان کے مراتب کا پورا پورا لحاظ کرکے مکالمہ نگاری کی جائے گی۔
مکالمے کی قسمیں:

 

سب سے پہلے یہ طے کیا جائے گا کہ مکالمہ ہوگا کس کے درمیان۔ ریاست کی سطح پر ہوگا یا قوم کی سطح پر؟ سیاسی سطح پر ہوگا یا اقتصادی سطح پر؟ ثقافتی سطح پر ہوگا یا مذہبی سطح پر، معاشرے کی سطح پر ہوگا یا انفرادی سطح پر، مکالمہ جس سطح پر ہوگا اسی کے اعتبار سے شخصیات کا انتخاب کیا جائے گا۔

 

مثال کے طور پر مکالمہ اقتصادی سطح پر ہورہا ہے تو پھر ماہرینِ معیشت و تجارت کا انتخاب ہوگا، اور مکالمہ لکھنے کا انداز بھی ایسا ہی ہوگا۔ اگر مکالمہ ملک اور ریاست کی سطح پر ہورہا ہے تو ایسے حکومتی ترجمان کا انتخاب ہوگا جو ملک و قوم کی ترجمانی کا فریضہ سرانجام دے سکے، اور پھر مکالمہ نگاری بھی اسی پس منظر میں کی جائے گی۔ اگر مکالمہ ثقافتی سطح پر ہورہا ہے تو پھر ایک گاﺅں کا انتخاب ہوگا اور اس معاشرے کی تہذیب و ثقافت کو مدنظر رکھتے ہوئے مکالمہ لکھا جائے گا…. علیٰ ہذا القیاس !!

 

مکالمہ نگار کو چاہیے کہ مکالمہ لکھنے سے پہلے مکالمے کے ا غراض و مقاصد معلوم کرلے۔ جب تک مکالمے کے اغراض و مقاصد واضح نہ ہوں، اس وقت تک صحیح مکالمہ نگاری نہیں ہوسکتی۔ اسی طرح مکالمہ لکھتے وقت مکالمے کے نتائج اور عواقب پر نظر رکھی جائے۔ کیوں، کب، کہاں کیسے، کون…. ڈبلیو ایچ کیوئسچن (WH Question) کو ذہن میں رکھ کر مکالمہ نگاری کی جائے گی تو نتائج سو فیصد آنے کا امکان ہے، ورنہ معلومات کے حصول میں تشنگی باقی رہ جانے کا امکان ہے۔

 

 

قرآن میں بیان کردہ ایک دلچسپ مکالمہ:

 

ایک تاریخی مثال دیتا ہوں۔ دیکھیں! جب اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو فرعون کے پاس اپنا پیغام دے کر بھیجا تو جاتے وقت حضرت موسٰیؑ کو آداب بتاتے ہوئے کہا کہ ”فرعون سے نرمی اور حکمت سے بات کرنا۔“ حضرت موسٰیؑ اور فرعون کے درمیان جو مکالمہ ہوا، وہ پڑھنے کے قابل ہے۔ اس مکالمے میں ایک طرف روحانیت کی طاقت کے بادشاہ موسٰیؑ ہیں تو دوسری طرف مادّی طاقت کے بادشاہ فرعون تھا۔ یہ مکالمہ قرآن کی سورة الشعراءمیں موجود ہے۔ ”اب تم فرعون کے پاس جاو¿ اور کہو کہ : ہم دونوں رب العالمین کے پیغمبر ہیں۔ (اور یہ پیغام لائے ہیں) کہ تم بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ بھیج دو۔ “

 

فرعون نے ( جواب میں موسٰیؑ سے) کہا: ”کیا ہم نے تمہیں اس وقت اپنے پاس رکھ کر نہیں پالا تھا جب تم بالکل بچے تھے؟ اور تم نے اپنی عمر کے بہت سے سال ہمارے یہاں رہ کر گزارے۔ اور جو حرکت تم نے کی تھی وہ بھی کر گزرے اور تم بڑے ناشکرے آدمی ہو۔ “

 

موسٰیؑ نے کہا: ”اس وقت وہ کام میں ایسی حالت میں کر گزرا تھا کہ مجھے پتا نہیں تھا، چنانچہ جب مجھے تم لوگوں سے خوف ہوا تو میں تمہارے پاس سے فرار ہوگیا، پھر اللہ نے مجھے حکمت عطا فرمائی، اور پیغمبروں میں شامل فرما دیا، اور وہ احسان جو تم مجھ پر رکھ رہے ہو (اس کی حقیقت) یہ ہے کہ تم نے سارے بنی اسرائیل کو غلام بنا رکھا ہے۔“

 

فرعون نے کہا: ”اور یہ رب العالمین کیا چیز ہے؟“

 

موسٰیؑ نے کہا: ”وہ سارے آسمانوں اور زمین کا، اور ان ساری چیزوں کا پروردگار ہے جو ان کے د رمیان پائی جاتی ہیں، اگر تم کو واقعی یقین کرنا ہو۔“

 

فرعون نے اپنے اردگرد کے لوگوں سے کہا: ”سن رہے ہو کہ نہیں؟“

موسٰیؑ نے کہا: ”وہ تمہارا بھی پروردگار ہے اور تمہارے پچھلے باپ دادوں کا بھی۔“

فرعون بولا: ”تمہارا یہ پیغمبر جو تمہارے پاس بھیجا گیا ہے یہ تو بالکل ہی دیوانہ ہے۔“

موسٰیؑ نے کہا:” وہ مشرق و مغرب کا بھی پروردگار ہے ، اور ان کے د رمیان ساری چیزوں کا بھی، اگر تم عقل سے کام لو۔
فرعون کہنے لگا: ”یاد رکھو! اگر تم نے میرے سوا کسی اور کو معبود مانا تو میں تمہیں ضرور ان لوگوں میں شامل کردوں گا جو جیل خانے میں پڑے ہوئے ہیں۔“

 

موسٰیؑ بولے: ”اور اگر میں تمہیں کوئی ایسی چیز لا دکھاو¿ں جو حق کو واضح کر دے ، پھر؟“
فرعون نے کہا: ”اچھا، اگر واقعی سچے ہو تو لے آو¿ وہ چیز۔“

 

یہ ایک طویل مکالمہ ہے جس کا ایک حصہ یہاں درج کیا ہے۔ اسی طرح قرآن پاک میں مکالمے کا یہ انداز جابجا آپ کو نظر آئے گا۔

مکالمے کا استعمال دنیا میں موجود تمام زبانوں میں ہوتا ہے، کیونکہ ہر زبان میں دو یا دو سے زائد افراد کے درمیان بات چیت کی صورت حال لازمی پیدا ہوتی ہے، وہاں پر بات چیت کے لیے مکالمے کی ترتیب کا سہارا لیا جاتا ہے۔

 

گویا مکالمے کا یہ انداز اردو، عربی، انگلش اور دیگر تمام قدیم و جدید کتابوں میں نظر آئے گا۔ مکالمہ تحریر کی ایک صنف ہے اور یہ تمام زبانوں میں پائی جاتی ہے۔

 

رائٹر کے لیے مکالمہ کس قدر اہم ہے

 

یاد رکھیں! جتنے بھی رائٹر ہیں، جو بھی لکھنے لکھانے سے تعلق رکھتا ہے، اس کا مکالمے سے فرار ممکن نہیں ہے، کیونکہ بعض اوقات ایسی بات ہوتی ہے، ایسا عنوان ہوتا ہے جو مکالمے کا تقاضا کرتا ہے، طوعاً و کرھاً، چار و ناچار اس عنوان پر لکھی جانے والی تحریر کومکالمے کے سانچے میں ڈھالنا ہی پڑتا ہے، اس لیے ضروری ہے کہ مکالمے کا یہ فن بھی آنا چاہیے۔ مکالمے کا یہ فن آسان بھی ہے اور مشکل بھی۔

 

اگر کوئی ہمت نہ کرے، محنت نہ کرے، مکالمے نہ پڑھے، نہ سنے اور نہ ہی لکھنے کی کوشش کرے تو اس کے لیے واقعتا مکالمہ نویسی کا یہ فن مشکل ہے، لیکن اگر ذرا سی ہمت، محنت اور کوشش کرلے تو اس کے لیے حلوہ ہے۔

 

جس طرح دو دوست، دو بھائی، دو بہنیں، دو ساتھی، والدین، باپ بیٹا، ماں بیٹی، استاذ شاگرد، گرو چیلہ وغیرہ کسی موضوع پر باتیں کرتے ہیں، ایک دوسرے سے تبادلہ¿ خیال کرتے ہیں تو اسی کو تحریر کے سانچے میں ڈھالنے کی کوشش کرے۔

 

ایسا بھی کرسکتا ہے کہ ان باتوں کو پہلے ریکارڈ کرے اور پھر کاغذ پر نقل کرنے کی کوشش کرے۔ فرضی مکالمے بنانے کی مشق کرے۔

 

مثال کے طور پر ایک آدمی شہر میں رہنے کو ترجیح دیتا ہے، دوسرا دیہاتی زندگی کا دلدادہ ہے۔ ایک چھٹی کا دن گھر پر سستاتے ہوئے گزارنے کا عادی ہے، دوسرا فارغ وقت میں باہر جاکر شکار یا تفریح کا شوقین ہے۔

 

ایک خواتین کی جدید تعلیم کی افادیت کا قائل ہے، جبکہ دوسرا اسے تباہ کن اور مضر سمجھتا ہے۔ ایک کو گرمی کا موسم اچھا لگتا ہے، اور دوسرے کو سردی میں زندگی کا لطف آتا ہے۔ اس طرح کے دو متضاد نظریات کے حامل افراد یا اشیاءکے درمیان مکالمہ لکھنے سے مافی الضمیر کے اظہار کی بہترین مشق ہوجاتی ہے۔

 

صحافت کے میدان میں نوواردوں کو چاہیے کہ پہلے مرحلے میں وہ فرضی مکالمے لکھنے کی مشق کریں۔ دوچار مرتبہ کی مشق سے ہاتھ کھلنے لگے گا، بلکہ پہلے اسٹیج اور مرحلے پر نوواردوں کو مکالمے پر لکھی گئی کتابیں پڑھنی چاہیے۔ مکالمے اور ڈائیلاگ (Dialogue) سننے چاہیے۔

 

مکالمے پڑھتے ہوئے اور ڈائیلاگ سنتے ہی مکالمے اور ڈائیلاگ کے بول یاد کرنے کی کوشش کریں۔ روزانہ کی بنیاد پر مکالمے، ایک جملہ اور ایک ڈائیلاگ یاد کریں۔ اسی طرح مشق اور یاد کرنے سے ایک ماہ بعد آپ کے پاس اچھا خاصا ذخیرہ جمع ہوجائے گا۔
پھر رفتہ رفتہ لکھے گئے مکالموں کا چربہ اُتارنے کی کوشش کریں۔

 

جب چربہ اُتارنے لگ جائیں تو پھر فرضی مکالمے لکھنے اور ڈائیلاگ بولنے کی کوشش کریں۔ بہتر ہوگا کہ مکالمے کے فن کے کسی ماہر استاذ سے اصلاح بھی لیتے رہیں۔ مستقل مزاجی سے مکالمہ پڑھنے، سننے، یاد کرنے اور پھر لکھنے کی مشق سے آپ کو مکالمہ نگاری آجائے گی۔ صحافت اور ادب کی ایک اہم صنف مکالمہ نگاری میں بھی آپ ماہر ہوجائیں گے۔

 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.