Pakistan Writers Welfare Association

مرد لکھاری متوجہ ہوں

32

مرد لکھاری متوجہ ہوں. اس پوسٹ پر صرف مرد حضرات کو ہی مینش کیا جائے ۔ یہ پوسٹ دوبارہ کیوں لکھی گی ہے؟

کم از کم تین سے چار مرد لکھاریوں نے شکوہ کیا ہے کہ حوصلہ صرف فیمیل لکھاریوں کی حوصلہ افزائی کر رہا ہے۔۔ ان کی ہی کہانیوں کو پروموٹ کر رہا ہے ۔۔۔ایک نے کہا کہ خواتین کے ہی انٹرویو کیے ہیں۔ ۔ایک نے الزام لگایا کہ حوصلہ خواتین کو ہی کیوں سپورٹ کر رہا ہے اس نے جو الفاظ کہے میں ان کو دہرانا مناسب خیال نہیں کرتا۔ایک نے کہا کہ اب وہ بھی اپنی فیمیل آئی ڈی سے لکھیں گے ۔مختصر جوابات کے بعد اصل بات کی طرف چلتے ہیں ۔۔۔۔۔۔بھائی آپ جس نام سے مرضی لکھیں ۔

اب تک حوصلہ نے خواتین کے کم اور مرد لکھاریوں کے زیادہ انٹرویو کیے ہیں ۔اب جو مقابلہ میں حصہ لے گا اس کی تحریر ہی شائع ہو گی ۔مردوں کے نام سے ہم تو لکھ کر لگانے سے رہے ۔یا ہم خواتین سے عرض کریں کہ براہ مہربانی مرد حضرات کے نام سے لکھیں ۔

یہ الزام پہلے بھی آیا تھا ۔ صرف باتیں کرنے والے افراد ایسی گفتگو کرتے ہیں ۔اس سے پہلے بھی عرض کی تھی اور اب پھر عرض کر رہا ہوںاگر فیمیلز مقابلہ جیت رہی ہیں تو اس کی وجوہات ہیں. وہ مقابلہ جات میں حصہ لیتی ہیں. محنت کرتی ہیں.انہیں تبصرے کا ڈر نہیں ہے. وہ شکوہ کرنے کی بجائے کام پر یقین رکھتی ہیں. مغرور نہیں ہیں, سیکھنا چاہتی ہیں.

ہم نے یہ پوسٹ صرف میل رائٹرز کو دعوت دینے کے لئے لکھی ہے.اس پوسٹ کو صرف میل رائٹرز کو ہی ٹیگ کیا جائے گا اور مینش کیا جائے گا..۔یہ ایک حقیقت ہے کہہم دیکھتے ہیں کہ خواتین دیگر شعبہ زندگی کی طرح ادب کے میدان میں بھی مرد لکھاریوں کو پیچھے چھوڑتی جا رہی ہیں. یعنی ادب کے افق پر چھائی جارہی ہیں .اللہ انہیں مزید کامیابیاں و کامرانیاں عطا فرمائے آمین.

ایسا کیوں, کیسے, کس طرح ہو رہا ہے. اس کی وجوہات کیا ہیں اس پر لکھاریوں کو سوچنا ہوگا.خواتین کے میدان ادب میں مردانہ وار کارناموں کی وجہ سے کچھ مرد لکھاریوں نے احساس کمتری کا شکار ہو کر منفی رویہ اختیار کر لیا ہے. اور شکوہ شکایت پر اتر آئے ہیں. بجائے اس کے کہ اچھا,اعلی اور معیاری کام پیش کریں سیکھنے کا جذبہ لے کر عاجزی سے تخلیقی کام کریں. اور اپنا مقام پیدا کریں.یہ ایک حقیقت ہے کہ خواتین لکھاری اب ادب میں اپنا نام و مقام بنا رہی ہیں ..مرد لکھاریوں کے پیچھے رہ جانے کی وجوہات کا مختصر جائزہ مناسب ہوگا..

اول… اکثر مرد لکھاری (نوٹ کریں ہم نے اکثر کا لفظ استعمال کیا ہے تمام یا سب نہیں لکھا) چھوٹا موٹا کام کرنا اپنی شان کے خلاف سمجھتے ہیں .اس لیے ایسے چھوٹے موٹے ایونٹ میں افسانہ دینا ان کی شان کے خلاف ہے..حوصلہ کو عید رنگ کے حوالے سے ملنے والے افسانوں میں 75 فیصد خواتین لکھاریوں کے ہیں.

دوم…مرد حضرات کا ادب کے میدان میں پیچھے رہنا ان کے اندر کا ڈر ہے.. ہار کا ڈر, تنقید کا ڈر, ایک رائیٹر نے فرمایا اگر وہ اپنا افسانہ لکھ دیں تو ان پر تنقید ہوگی.بے شک کہ تنقید ہوگی.. تو کیا تعریف نہ ہو گی. صاف ظاہر ہے اچھے کام پر تو تعریف ہوتی ہی ہے.خامی ہو گی تو تنقید ہو گی. تنقید سے سیکھنا چاہیے کمیاں دور کرنا چاہیے. خیال رہے اور یقین رکھیں مبصرین کی کسی سے دشمنی نہیں ہوتی.

سوم…۔سیکھنے کا جذبہ خواتین میں زیادہ پایا جاتا ہے.اور عاجزی بھی اکثر مرد لکھاری شارٹ کٹ راستہ اختیار کرنا چاہتے ہیں.. اور مجھے کہنے دیں ہمارے عہد کے لکھاری. اس مرض کا شکار زیادہ ہیں.ہم دیکھتے ہیں آج جن کا نام ہے جن کو ہم کسوٹی مانتے ہیں, سینیئرز کہتے ہیں وہ محنتی تھے, صابر تھے, تحقیق کرتے تھے, ایک ایک جملہ پر محنت کرتے تھے اور سب سے بڑھ کر ان میں تکبر نہ تھا.ہمارے عہد کے ادبا کو تکبر لے ڈوبا. یہ تکبر بہت سی خواتین لکھاریوں میں بھی پایا جاتا ہے.

چہارم..ایک مرد لکھاری نے کہا کہ میل رائٹرز کے پاس وقت کم ہوتا ہے اور فیمیل کے پاس زیادہ وقت ہوتا ہے.لکھنے لکھانے کے حوالے سے..بیرونی دنیا (گھر سے باہر) کا مشاہدہ مرد لکھاریوں کے پاس زیادہ ہوتا ہے. اور ان پر پابندیاں بھی کم ہوتی ہیں.علاوہ ازیں گھر کے کام کاج بھی خواتین کو کرنا ہوتے ہیں.یہ مرد لکھاریوں کا صرف ایک بہانہ ہے. مرد حضرات اگر خواتین پر گھروں میں لگنے والی پابندیوں کا ہی تصور کر لیں تو انہیں علم ہو جائے کہ کس مشکل سے وہ وقت نکال رہی ہیں. خواتین اس پر داد کی مستحق ہیں .

آپ ماہانہ رسائل جو شائع ہو رہے ہیں یا میگزین وغیرہ دیکھ لیں زیادہ تر وہی پاپولر ہیں جو خواتین لکھ رہی ہیں. خواتین کے لکھے ہوئے ڈرامے پاپولر ہو رہے ہیں.اصل میں خواتین وقت ضائع نہیں کرتی,کام کر رہی ہیں.. کام کر رہی ہیں تو نام تو ہوگا ہی..ہمارا مقصد نہ کسی کی دل آزاری ہے. اور نہ ہی بے جا تنقید …مقصد ہے میل رائٹرز کو دعوت دینا.

امید ہے کہ اس پوسٹ کے بعد جن احباب کو ہم مینش کر رہے ہیں یا ٹیگ کر رہے ہیں وہ سارے کے سارے فی الفور اپنی تحریر لکھ کر دیے گئے نمبر پر واٹس ایپ کردیں گے .اور آخری تاریخ کا انتظار نہیں کریں گے.نوٹ ۔اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ فیمیل لکھاری ہمارے ہپیروز پر لکھ نہیں سکتی ۔۔اس پوسٹ کا مطلب مرد لکھاریوں کو دعوت دینا ہے ۔۔۔۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.