Pakistan Writers Welfare Association

ہمارے ہیروز کون ہیں؟ ( ساتویں،آخری قسط) تحریر ۔ یاسین صدیق

51

حوصلین السلام علیکم ۔ان شا اللہ تعالی جلد ہمارے ہیروز ایونٹ کی مختصر کہانیاں گروپ میں پوسٹ ہونا شروع ہو جائیں گی ۔اس سے پہلے ہمارے ہیروز کون ہیں کا سلسلہ بند کیا جا رہا ہے ۔ ہمارے ہیروز نامی یہ ایونٹ ملک کے لیے اپنی توانائیاں صرف کرنے والے افراد کے نام ہے ۔اس میں گمنام ہیروز ،شہدا،قابل تقلید شخصیات شامل ہیں ۔آپ نے ان شخصیات کا خاکہ کہانی نما لکھنا ہے ۔ادب کی چاشنی لیے ہوئے ،دلچسپ ومنفرد انداز بیاں میں ۔اب تک تقریا 200 افراد کے نام دیے جا چکے ہیں ۔آپ ان پر لکھیں یا اپنی مرضی سے جس پر مرضی لکھیں ۔ آپ سے ایک بار پھر درخواست ہے کہ آپ جس کو ہیرو سمجھتے ہیں ۔اس پر لکھیں ۔

اور ہاں مختصر کہانی لکھنے سے پہلے پن پوسٹ پر موجود ۔۔۔ہمارے ہیروز ایونٹ ۔۔۔کی پوسٹ کا مطالعہ لازمی کر لیجئے گا ۔مزید کوئی بھی سوال آپ مقابلہ کی پوسٹ پر پوچھ سکتے ہیں ۔وہی قومیں بام عروج کو پہنچی جنہوں نے اپنے ہیروزکی قدر کی ،انہیں سراہا ،ان کو یاد رکھا،ان کو خراج تحسین پیش کیا ۔ہیروز کسی بھی قوم یا ملک کی شناخت ہوتے ہیں ۔مختلف شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے ہیروز کی تعداد اتنی زیادہ ہے کہ ان کی فہرست تیار کرنا ایک مشکل ترین کام ہے ۔مجھ سے جتنا ممکن ہو سکا کیا ہے ۔مزید بھی ان شا اللہ حالات و فرصت سے اس پر لکھتا رہوں گا ۔مذہبی و سیاسی ہیروز کو ہم نے اس میں شامل نہیں کیا سوائے چند ایک نام لکھے ہیں ۔ہم جناب محترم عبدل جی کی اس بات سے اتقاق کرتے ہیں ۔


میرے خیال میں سیاسی اور مذہبی میدان میں کیونکہ ہم نے قومی سطح پر زوال ہی دیکھا ہے مزید یہ کہ ان دو حوالوں سے ہم بطور قوم کروڑہا تقسیم کا شکار ہو چکے ہیں اس لئے یہ طے کرنا کہ ازافی اور قائد اعظم کے بعد کون ہمارا سیاسی ہیرو ہے اور کون مذہبی ۔۔۔۔ یہ ناممکن بات ہے۔۔۔ میں جسے ہیرو قرار دوں آپ اسے ملک دشمن کہیں گے ۔۔۔ آپ جسے ہیرو سمجھتے ہیں مجھے اس کے متعلق غدار کے نعرے ہی آتے ہیں۔اس لئے میری درخواست ہے کہ ان دو متنازعہ کیٹیگریز کو ڈراپ کر دیلیکن اس پر ان شا للہ بعد ازاں کسی مناسب پلیٹ فارم پر لکھنے کی کوشش کروں گا ۔میں ان سب احباب کا شکر گزار ہوں جنہوں نے اس فہرست کو ترتیب دینے میں مدد کی۔اردو زبان ہمارے ملک کی قومی زبان ہے یہ سرکاری زبان بن جائے اس کے لیے تگ و دو کرنے والوں کی فہرست جناب پروفیسر محمد سلیم نے دی ۔

جناب پروفیسر محمد سلیم سے میری ملاقات (اب تو سال بھی یاد نہیں ) ہوئی تھی اس وقت بھی وہ اردو زبان کے نفاذ کو اپنا مشن بنائے ہوئے تھے ۔انہوں نے خود پوری زندگی نفاذ اردو کے لیے وقف کی ہوئی ہے ۔ان کی دی ہوئی فہرست ان کے شکریہ کے ساتھ پیش کر رہا ہوں ۔پاکستان میں نفاذ اردو کے لئے کام کرنے والے ہیرو
پروفیسر اشتیاق احمد
ڈاکٹر محمد شریف نظامی
محترمہ ثروت روبینہ
سکندر جاوید ایڈووکیٹ
محترم عزیز ظفر آزاد
محترمہ فاطمہ قمر
کوکب اقبال ایڈووکیٹ
مزمل عباس صائم
محترم جمیل بھٹی
پروفیسر زاہد رند
محترم حامد انوار
محترم عدنان عالم
محترم محمد اکرم فضل
محترم یونس عزیز
یوسف فاروق ایڈووکیٹ
محترمہ نعیمہ شہزاد
محترم طاہر سراج
پروفیسر جاوید چودھری
پروفیسر غلام مصطفیٰ
اور
جناب جسٹس جواد ایس خواجہ جنہوں نے پاکستان میں نفاذ اردو کا حکم دے کر پاکستانی قوم کو ترقی اور خوشحالی کی شاہراہ پر ڈالنے کے عمل کا آغاز کر دیا۔


مرحومین میں جنرل حمید گل اور ڈاکٹر وسیم اخترمجھے بے سکونی سی ہے کہ بہت سے قابل قدر ہیروز کے نام میں نہیں دے سکا ۔ان پر تفصیل سے لکھنے کی ضرورت ہے اور اس پر بھی کھل کر نہ لکھ سکا کہ زندہ قومیں اپنے ہیروز کو مرنے نہیں دیتیں مگر ہم انہیں جینے نہیں دیتے۔۔بہت سے ہیروز کی زندگی اجیرن بنا دی گی اور بہت سارے ایسے تھے جن کو متنازعہ بنا دیا ۔۔۔۔۔۔خیر اس پر پھر کبھی سہی ۔۔حکیم محمد سعید پر ایک مضمون پوسٹ کیا ہے اسی طرح سپاہی مقبول حسین بارے بھی پوسٹ کرنے کا ارادہ ہےسنیں ایک ہیرو گھرانے کی کہانی ۔۔۔محبوب عالم خان متحدہ ہندوستان میں سروے سپروائزر تھے ان کے نو بیٹوں نے افواج پاکستان میں شمولیت اختیار کی اور 1965اور 1971کی جنگوں میں بہادری کے جوہر ایک بھائی نے 1967میں بھارت کے خلاف ایک معرکہ میں جام شہادت نوش کیا جبکہ ایک بھائی نے 1971کی جنگ میں وطن کی حرمت پہ جان نچھاور کی ایک وقت میں اتنے سارے بیٹے محاذ جنگ پر بھیجنے والی امیر النساء بیگم نے جب اپنے بیٹے کی شہادت کی خبر سنی تو اس عظیم ماں نے ایک تاریخی فقرہ بولا اور کہااگر میرے اتنے ہی اور بیٹے ہوتے تو میں خوشی خوشی جنگ کے محاذ پر روانہ کر دیتی

پاکستان کیا دنیا بھر میں ایسی کوئی مثال نہیں ملتی کہ اتنی تعداد میں بھائیوں نے ایک ساتھ وطن کے دشمنوں کے خلاف جنگ میں حصہ لیا ہو اور مادر وطن پر وارے گئے ہوں .ان نو بھائیوں کے نام بریگیڈیر ظاہر عالم خان،کرنل فروز عالم خان،سکواڈرن لیڈر شعیب عالم خان،جنرل شمیم عالم خان،وائس ایڈمرل شمعون عالم خان ، ونگ کمانڈر آفتاب عالم خان ،فلائٹ آفیسرمشتاق عالم خان ،کیپٹن اعجاز عالم خان ،اور لیفٹیننٹ جنرل جاوید عالم خان تھے ان میں سے ونگ کمانڈر آفتاب عالم خان کو 1965کی جنگ میں داد شجاعت دینے پر ستارہ جرت دیا گیا لیکن انہوں نے یہ کہہ کر لینے سے انکار کر دیا کہ میں نے فوج صرف اپنا فرض ادا کرنے کے لیے جوائن کی ہے .جنرل شمیم عالم خان ریٹائرمنٹ سے قبل چیئرمین جوائنٹ چیف آف سٹاف کمیٹی کے عہدے پر فائز رہےایسی درجنوں کہانیاں ان کہی رہ گئی ہیں ۔خاص کر ہم آئی ایس آئی کے ہیروز کے ناموں سے لاعلم ہیں۔کیپٹن عبدالقدیر جیسے ہیرو کا نام بہت کم سامنے آتا ہے ۔

اسی طرح صحراوں ،ریگستانوں ،پہاڑیوں ،سمندروں ،جنگلوں میں وطن کے دشمن سے ملک کی سرحدوں کا پہرہ دینے والوں سے ہم لاعلم ہیں ۔یا ان پر کم لکھا گیا ہے ۔اگر ہمارے معروف قلم کار اس پر کام کریں تو ایک قابل قدر مواد اکھٹا کیا جا سکتا ہے ۔ابھی سپاہی مقبول حسینکا نام ذہن میں آیا ۔ان جیسے قابل قدر ہیروز لاکھوں کی تعداد میں وطن پر قربان ہو گئے ۔اسلام کے لیے یا وطن کے لیے جنہوں نے جانیں قربان کی ہیں وہ بھی سینکڑوں کے حساب سے ہیں ۔چند نام دیکھیں ۔ا یمل کانسی ،عامر چیمہ،ممتاز قادری،عافیہ صدیقی ،حافظ سعید احمد اور مولانا اظہر مسعود ۔اب کوئی انہیں ہیروز نہ سمجھے تو نہ سمجھے بہت سے لوگ انہیں ہیروز مانتے ہیں ۔آُپ صاحب علم ہیں ۔وطن سے محبت کا دم بھرتے ہیں ۔آپ اپنا تھوڑا وقت صرف کریں اور کسی ایک ہیرو کی کہانی لکھ کر بھیج دیں ۔

hosla.awamifaisla.com
hosla.awamifaisla.com

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.