Pakistan Writers Welfare Association

ہمارے ہیروز کون ہیں ؟ (چھٹی قسط) تحریر ۔ یاسین صدیق

126

دوستوں ہمارے ہیروز کی یہ چھٹی تحریر ہے ۔اس میں متفرق ہیروز کی لسٹ دے رہا ہوں یہ لسٹ تین طرح کی ہے۔۔۔۔۔۔ اول ۔۔ہمارے ملک کے وہ بچے جنہوں نے دنیا کو حیران کر دیا ۔دوم ۔غیر مسلم ہیروز جنہوں نے وطن کے لیے جان قربان کر دی اور سرکار نے انہیں اعزاز سے نوازا ۔سوم ۔۔۔۔۔پاکستانی مختلف شعبہ جات سےمشہور افراد کی لسٹ ۔جن میں بہت سے نام ایسے ہوں شاید جنہیں آپ ہیرو نہ مانتے ہوں ۔اور بہت سے نام ایسے ہیں جو مجھ سے شامل نہیں ہو سکے اور وہ ہیرو ہوں ۔جن کے نام شامل نہیں ہو سکے۔

آپ سے التماس ہے کہ ان کے نام مجھے دیں تاکہ شامل کرسکوں ۔۔ ہمارے ہیروزمعاشرے میں آسانیاں، خوشیاں اور روشنیاں بانٹنے والے ہییں اپنے ہیروز کو متنازعہ بنانے والی قومیں زیرو ہو جاتی ہیں۔۔اس لسٹ میں پاکستان کے مشہور افراد مختلف شعبہ سے(جتنے مجھ سے ممکن ہوئے) تعلق رکھنے والے افراد کے نام شامل کرنے کی کوشش کی ہے جی ہاں کوشش کی ہے ۔اسے ملک کے مشہور افراد کی لسٹ سمجھیں ۔اس لسٹ میں وہ افراد شامل نہیں ہیں جن کا ذکر سابقہ پوسٹوں میں گزر چکا ہے ۔اور وہ بھی شامل نہیں ہیں جن کا ذکر ابھی ہونا باقی ہے ۔۔۔

۔نوید بٹپولیو سے معذور نوید بٹ، کیلیفورنیا میں ہونے والے باڈی بلڈنگ مقابلے میں بنا کسی حکومتی مدد کے اپنا کلب اور موٹر سائیکل بیچ کر شرکت کرتا ہے 35ممالک کی ٹیموں کو پچھارتے ہوئے پاکستان کے لیے تین گولڈ میڈل حاصل کرتا ہے اور پوری دنیا میں پاکستان کا نام روشن کرتا ہے ۔ پاکستان کے اس بیٹے پر قوم جتنا فخر کرے وہ کم ہے

ایان قریشیجس نے صرف پانچ سال کی عمر میں مائیکرو سافٹ سرٹیفائیڈ پروفیشنل ہونے کا اعزار حاصل کیا ۔ایان نے برمنگھم یونیورسٹی سے یہ امتحان پاس کیا اور یوں پوری دنیا میں پاکستان کی پہچان بنا۔ ۔ماہ نورسرگودھا کے متوسط گھرانے اور گورنمنٹ اسکول میں تعلیم حاصل کرنے والی آٹھ سالہ ماہ نور نے آسٹریلیا یونیورسٹی نیوساوتھ ویلز کے زیراہتمام ہونے والے ریاضی کے عالمی مقابلے میں ہندوستان سمیت 17 ممالک کو شکست دے کر پوری دنیا میں پاکستان کا نام روشن کیا

ارفع کریم صرف نو سال کی عمر میں مائیکرو سافٹ سرٹیفائیڈ پروفیشنل کا اعزاز حاصل کرنے والی ارفع کریم کا نام گنیز ورلڈ ریکارڈز میں درج ہے ۔دس سال کی عمر میں پائلٹ کا اجازت نامہ حاصل کر کے دنیا کو حیران کر دیا ۔ ۔۔ نان مسلم میں قابل قدر نام ڈاکٹر رتھ فاو کا بھی ہے ۔ڈاکٹررتھ فاو نے 1960میں پاکستان میں جذام کے خاتمے کے لیے کوششوں کا آغاز کیا.ڈاکٹررتھ فاو کی کوششوں سے پاکستان سے جذام کا خاتمہ ہوا اورعالمی ادارہ صحت نے 1996 میں پاکستان کوجذام پرقابو پانے والا ملک قراردیا جب کہ پاکستان ایشیا کا پہلا ملک تھا جس میں جذام پرقابو پایا گیا۔حکومت پاکستان نے1979 میں ڈاکٹر رتھ فاو کوجذام کے خاتمے کے لیے وفاقی مشیربنایا اور1988 میں ڈاکٹر رتھ فاوکو پاکستان کی شہریت دے دی گئی۔ ڈاکٹررتھ فاو کی گراں قدر خدمات پرانہیں ہلال پاکستان، ستارہ قائداعظم، ہلالِ امتیاز، جناح ایوارڈ اورنشان قائداعظم سے نوازا گیا


وطن کے لیے جان کی قربانی پیش کرنے والوں میں غیر مسلم اقلیتوں کے بھی بہت سے جوان شامل ہیں ۔ انہوں نے وطن کے لیے اپنی جان دی ہے اور حکومت وقت نے انہیں مختلف اعزازوں سے نوازا ہے ۔یہ پاکستان سے اتنا ہی پیار کرنے والے تھے جتنا پیار ایک مسلم سپاہی کرتا ہے ۔چند ایک ہیروز کا مختصر تعارف ۔۔۔۔۔اس جہد و طلب سے ہی قائم بنیاد ہے بزم ہستی کیوہ موج فنا ہو جاتی ہے جس موج کو ساحل ملتا ہے۔ائر وائس مارشل ایرک گورڈن ہالپاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے بانی چئیرمین اور 65 کی جنگ میں پاک فضائیہ کے ڈرامائی ایڈونچر "ہرکولیس بمبار "کے منصوبہ ساز ایرک گورڈن ہال برمی کرسچین والدین کے ہاں پیدا ہوئے اور پاک فضائیہ میں شمولیت کے بعد اُنہوں نے پاکستانی شہری کی حیثیت سے زندگی گزاری۔ 65 کی جنگ میں اِنہیں اِن کی جنگی خدمات کے صلے میں ستارہ جرات کا اعزاز ملا۔ریٹائرمنٹ کے بعد انہوں نے پاکستان اٹامک انرجی کمیشن کے سربراہ کے طور پر ایک عرصے تک یورینیئم کی افزودگی کے منصوبوں کی نگرانی کی۔ائر وائس مارشل مائیکل جان اوبرائنلاہور کے کرسچین خاندان سے تعلق رکھنے والے اوبرائن پاک فضائیہ کے اولین افسران میں ایک نمایاں شخصیت ہیں۔ اُنہیں پاک فضائیہ میں جنگی اور انتظامی خدمات کے صلے میں تمغٔہ جرات اور ستارۂ بسالت جیسے بہادری کے جبکہ نشان امتیاز جیسااعلیٰ کارکردگی کا اعزاز ملا۔

اُنہوں نے پاکستان کے جوہری پروگرام کے آغاز میں اہم کردار ادا کیا۔ائر کموڈور نذیر لطیف1965 اور1971 کی پاک بھارت جنگوں کے غازی نذیر لطیف کا تعلق راولپنڈی کے کرسچین خانوادے سے تھا۔ اُنہیں بہادری کا تیسرا اعلیٰ ترین اعزاز ستارۂ جرات دو بار عطا کیاگیا۔سکواڈرن لیڈر پیٹر کرسٹی شہیدملتان کے ایک کرسچین فائر فائٹر مولا بخش کرسٹی کے بیٹے سکواڈرن لیڈر پیٹر کرسٹی پاک فضائیہ میں فائر ماسٹر کے نام سے مشہور تھے۔۔ 1965 کی جنگ میں B-57طیاروں کے بہادرانہ مشن اُڑانے پر اُنہوں نے تمغۂ جرات کا اعزاز حاصل کیا۔وہ 1971 کی جنگ میں شہید ہوئے۔ اُنہیں بعد از شہادت ستارۂ جرات کا اعزاز دیا گیا۔۔ونگ کمانڈر میروِن لیزلی مڈل کوٹ شہید”کمانڈر لیزلی” کانام پاک فوج کے کرسچین افسرنے 1965 کی پاک بھارت جنگ میں دُشمن کے حملہ آور لڑاکا طیاروں کو شکار کرنے کے صلے میں ستارہ جرات کا اعزاز حاصل کیا ۔ 1971 کی جنگ میں اُن کی شہادت پر اُردن کے بادشاہ حُسین نے جو کہ خود بھی ایک ماہر پائلٹ تھے، اُن کی بیوہ کو خط میں لکھا،”بہن!کمانڈر لیزلی کی موت میرا ذاتی نقصان ہے۔ میری خواہش ہے کہ اگر شہید کے جسدِخاکی کو پاکستانی پرچم میں لپیٹ کر دفن کرنے لگو تو اس کے سر کے نیچے اُردن کا پرچم ضرور لپیٹ کر رکھنا۔ "کمانڈر لیزلی نے مادرِوطن کے ساتھ وفاداری کاحق ادا کرنے کی خاطر ایک اور مسلم ملک کو بھی تاابد اپنا شکرگزار اور ممنون کر دیا۔

 

 

گروپ کیپٹن سیسل چوہدریسیسل چوہدری 1965کی جنگ میں بھارتی فضائیہ کے خلاف فضائی لڑائیوں جنگی خدمات کے صلے میں ملک کے تیسرے اور چوتھے اعلیٰ ترین بہادری کے اعزازات ستارۂ جرات اور تمغٔہ جرات سے نوازا گیا۔ 2012میں وفات پاگئے۔میجرجنرل کیزاد سپاری والاکیزاد مانک سپاری والا پاک فوج کے پہلے پارسی جرنیل تھے ۔ انہیں ان کی نمایاں عسکری خدمات پر نشانِ امتیاز (ملٹری)عطا کیا گیا۔میجر جنرل نوئیل اسرائیل کھوکھرلاہور سے تعلق رکھنے والے کرسچین افسر نوئیل اسرائیل کھوکھر کا تعلق توپ خانے سے ہے۔ ۔ 2011میں انہیں ہلالِ امتیاز (ملٹری) سے نوازا گیا اور 2012 میں وہ پاکستان آرمی سے ریٹائر ہو گئے۔فلائٹ لیفٹننٹ الفریڈ جگ جیون1948 میں کشمیر کے محاذ پر بھارتی اور پاکستانی فضائیہ کے درمیان تاریخ کی پہلی فضائی لڑائی ہوئی جس میں بھارتی ہاکر ٹمپسٹ لڑاکا طیارے نے پاک فضائیہ کے مال بردار ڈیکوٹا طیارے پر حملہ کیا جسے فلائٹ لیفٹننٹ مختار ڈوگر ( بعد ازاں ائر کموڈور ،ستارہ جرات) اورایک کرسچین افسر، فلائنگ افسر جگ جیون نے کمال بہادری سے ناکام بنا دیا۔

 

 

میجر جنرل افتخار جنجوعہراولپنڈی سے تعلق رکھنے والے میجر جنرل افتخار جنجوعہ مذہباً قادیانی تھے۔ ۔ 1965میں اُنہوں نے رن کچھ میں بھارتی فوج کے خلاف ایک بریگیڈ کی کمان کرتے ہوئے قوم سے فاتحِ رن کچھ کا لقب حاصل کیا۔ اُنہیں پاکستانی فوج کی تاریخ کا پہلا آرمرڈ حملہ بطورِ بریگیڈ کمانڈر بیار بیٹ کی لڑائی میں کمان کرنےکا اعزاز حاصل ہے۔سیدضمیرؔ جعفری کی مشہور مزاحیہ نظم جو کہ کچھ کی لڑائی پہ تھی، اس میں ان کی دلیری کا تذکرہ خوب آیا ہے؛بڑھ کر جو ایک وار کیا افتخارؔ نےاور غازیانِ پاک نے کی دھم سے مار پیٹدھوتی جو ران پر تھی وہ رن میں پڑی رہیاُتنا بڑا فلاپ تھا جتنا بڑا فلِیٹانہیں ان خدمات کے صلے میں بہادری کا دوسر اعلیٰ ترین اعزاز ہلالِ جرات دوبار عطا کیا گیا۔ 1971میں وطن پر جان قربان کرنے والے ہماری تاریخ کے پہلے جرنیل کا اعزاز بھی انہی کے حصے میں آیا۔ 71میں کشمیر کے محاذ پرایک پرواز کے دوران بھارتی فوج کے حملے میں شہید ہوئے۔

 

 

بہت سے ناموں میں سے یہ چند نام میں نے لکھے ہیں ۔ان سب بارے ہمارے پاس معلومات کا کوئی قابل ذکر مواد موجود نہیں ہے ۔· لیاقت علی خانمحترمہ فاطمہ جناح بینظیر بھٹو،· ایوب خان،· پطرس بخاری· چوہدری رحمت علی· غلام احمد پرویز۔· عنایت اللہ خاں مشرقی،· ابو الاعلیٰ مودودی،،· چودھری افضل حق،· مولانا محمد علی جوہر،· ۔ عبد السلام، پاکستانی نوبل انعام یافتہ· ثمر مبارک مند،· سلیم الزماں صدیقی،· نرگس ماولوالا· اسرار احمد· طارق جمیل· طاہر القادری· محمد الیاس قادری· محمد شفیع اوکاڑوی،،· فرحت ہاشمی۔· امین احسن اصلاحی· محمد تقی عثمانیامتیاز علی تاج،· پطرس بخاری،· چودھری افضل حق· احمد فراز· احمد ندیم قاسمی· اشفاق احمد· بانو قدسیہ· فیض احمد فیض· حبیب جالب· ابن انشا· ابن صفی· جون ایلیا· مظہر کلیم· مستنصر حسين تارڑ· پروین شاکر· سعادت حسن منٹو· سید قاسم محمود· واصف علی واصف· سدھیر, ۔· محمد علی ۔· وحید مراد ۔· ندیم ۔· سلطان راہی ۔· طارق عزیز ۔· مصطفیٰ قریشی ۔· بدرمنیر، ۔· منور ظریف, ۔· سعید خان رنگیلا ۔· عمر شریف, -· سنگیتا ۔· بابرہ شریف،· -· انجمن،· سہیل احمد،شرمین عبید چنائے،· جنید جمشید،· آغا شورش کاشمیری،· حسن نثار،۔· حمید نظامی· شاہد مسعود· عالم لوہار· استاد امانت علی خان· عطاء اللہ خان عیسی خیلوی· مہدی حسن· نور جہاں· نصرت فتح علی خان· راحت نصرت فتح علی خان· ،جاوید میانداد· عبدالقادر· انضمام الحق· مصباح الحق· سعید انور· سرفراز نواز· شاہد آفریدی· وقار یونس· وسیم اکرمسہیل عباس،· طاہر زمان،· ہاشم خان· جہانگیر خان· جان شیر خان· قمر زماناعصام الحق قریشی،· نذیر صابر· حسن سدپارہ· ثمینہ بیگ۔

hosla.awamifaisla.com
hosla.awamifaisla.com

 

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.