Pakistan Writers Welfare Association

حوصلہ مندوں کے نام ! تحریر امجد جاوید

95

ماہ رمضان میں یہ جو عید کے رنگ کے عنوان سے شروع کیا گیا ایونٹ اب ختم ہو چکا ۔ اس ایونٹ میں مجھے تحریریں پڑھنے کی خدمت سے نوازا گیا ۔ جسے یہ جج بھی کہتے رہے ۔ جستہ جستہ افسانے وصول ہوتے رہے جنہیں وقت ملتے ہی پڑھتا رہا۔ نئے لکھاریوں کی تحریریں پڑھتے یہ احساس شدت سے ہوا کہ اردو ادب کی زمین بنجر نہیں ہے. ان لکھاریوں کی تھوڑا بہت حوصلہ افزائی ہو جائے, اگر ان کی اصلاح ہو جائے, اگر ان کو درست سمت کا تعین کرنے میں مدد کر دی جائے تو مستقبل میں اچھے لکھاریوں کی کھیپ تیار ہو سکتی ہے۔ آپ صرف افسانوں کے نام ہی پڑھیں تو عید کے درجنوں رنگ نظر آئیں گے۔ ذرا عید رنگوں کے عنوانات دیکھیں…

اصلی کمائی..لوٹ آئی خوشی کی عید….
محبوب کی عیدی۔۔۔تیر۔ے بن جو عید آئی۔۔۔
بے رنگ۔۔۔ہیپی ویلی کی عید۔۔۔۔کڑوی عید۔۔۔۔
چاند رات۔۔نویدِ عید۔۔۔۔ 
کس کس کا احترام اور کیسی دعا ۔۔۔۔
سچی خوشی۔۔۔معصوم خواہشیں۔۔۔۔۔
عید کا پیغام۔۔۔۔امید بہار۔۔۔۔عید کے رنگ۔۔۔۔
خوشیاں ہر سو بکھیرو۔۔۔۔ماہم کی محبت۔۔۔۔
صبحِ عید۔۔۔ بیوہ کی مزدوری۔۔۔۔۔مہندی۔۔۔
عیدکا رنگ۔۔۔عید پہ بابا آئیں گے۔۔۔۔جنہیں نازتھا۔۔۔۔عید کے رنگ اپنوں کے سنگ۔۔۔ یتیم کی عید۔۔۔۔
لالی اور لالو کی ماں۔۔۔۔۔
کھلونےبیچتےبچےکی عید۔۔۔
ہم وطن کے رکھوالوں کی عید۔۔۔۔
عید کی رونقیں۔۔۔۔۔۔مکافاتِ عمل۔۔۔۔
رشتوں کےسنگ بہارِ عید۔۔۔۔ محبت کا قرض۔۔۔۔.
آبلہ پا مسیحا۔۔۔۔۔ست رنگی عید۔۔۔۔۔

میکے کی عیدی۔۔۔۔میٹھی عید۔۔۔۔۔ شرمیلی۔۔۔ نیاچہرہ۔۔۔ خوابِ سراب۔۔۔۔۔یدتیرے سنگ آئی۔۔۔ ﺍﺣﺴﻦ ﮐﯽ ﻭﻓﺎﺩﺍﺭﯼ ﺍﻭﺭ ﻋﯿﺪ۔۔۔۔۔عیدِ دید۔۔۔
ﻋﯿﺪﭘﮧ ﺁﺟﺎﻧﺎ۔۔۔۔انوکھی عید۔۔۔پہلی عید۔۔۔۔
ﺍﻧﻌﻢ ﮐﯽ ﻋﯿﺪ۔۔۔۔ بن تیرے عید کہاں۔۔۔۔۔۔۔
اس بار کی عید۔۔ ﻣﺼﻨﻮﻋﯽ ﻋﯿﺪ۔۔۔۔۔حقیقی عید۔۔۔چلوعیدمنائیں۔۔۔۔عیدی۔۔۔عیدکی خوشیاں۔۔۔۔ 
تیرے سنگ یاراں۔ہر عیدبہاراں۔۔۔۔وہ ساز گار ہے۔۔۔انو کھی عیدی۔۔۔۔۔عیدکےرنگ نیکی کےسنگ۔۔۔۔ اصلی عید۔۔۔صبح کا بھولا۔۔۔۔
خوشی کا احساس۔۔۔۔۔۔عیدسعید۔۔
میری عیدتم ھو۔۔۔۔۔عیدکی چھٹی۔۔۔۔ دو دوست۔۔ کھیروالی عید۔۔۔عیدکےدن جنت کی نعمتیں۔۔۔۔عیدکےرنگ۔۔۔۔ سجدۂ شکر اور عید۔۔.
مرجھائے ھوئے پھول۔۔۔.خاص عید۔۔۔۔۔۔

ان عنوانات کے تحت افسانوں کو پڑھ کر میں نے یاسین صدیق صاحب سے کہا کہ کتاب شائع کر دی جائے تو اردو ادب میں ایک خوبصورت اضافہ ہو گا…اس میں شک نہیں کہ ایونٹ طوالت کا شکار رہا لیکن اتنے بڑے ایونٹ کو جلدی سمیٹ دیا جاتا تو وہ اپنا حسن کھو دیتا۔وہ رنگ سامنے نہ آ تے جو اب ہمارے سامنے اس ایونٹ کو رنگین کئے ہوئے ہیں ۔ اپنی آنکھوں میں درد کے باوجود میں نے ان افسانوں کو پڑھا. لکھاریوں کی تخلیقات کو پڑھ کر دل خوشی سے لبریز ہو گیا. اس سے زیادہ خوشی مبصرین کی بھر پور شرکت رہی. بہت اچھا, کامیاب, جاندار و شاندار ایونٹ منعقد ہوا. اسے مزید اچھا بنایا جا سکتا تھا. اور امید ہے کہ آنے والے ایونٹ بہت زیادہ نظم و ضبط سے منعقد ہوں گے. میں ہمیشہ سے ”حوصلہ “کے ساتھ ہوں.اگرچہ پابندیوں میں تحریر پوری طرح نکھر کر سامنے نہیں آتی ، یا خیال ایسا ہوتا ہے کہ اسے بہرحال طویل لکھنا پڑتا ہے ۔ لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جب کسی کو جانچنا ہو تو اور پھر بہت سارے لوگوں میں مقابلہ ہوتو اس میں شرط شرائط رکھی جاتی ہیں ، تھوڑا پابندی دی جاتی ہے تاکہ جانچنے کا ایک معیار قایم ہو جائے ۔لکھاریوں کے لئے کسی بھی مقابلہ کی تحریر لکھتے ہوئے جن باتوں کا خیال رکھنا ضروری ہوتا ہے اس کا مختصر سا خاکہ دے رہا ہوں. اس ایونٹ میں بہت سے لکھاریوں نے افسانے اچھے لکھے لیکن نمبر حاصل نہ کر پائے۔ اس کی وجہ ان کا اصول و ضوابط یا جو شرائط ابتدا میں دی جاتی ہیں ان پر عمل نہ کرنا ہے.


سب سے پہلے …عنوان….پر توجہ دینے کی ضرورت ہوتی ہے یاد رکھیں اکثر مقابلہ جات میں اس کے نمبر ہوتے ہیں.. عید رنگ میں عنوان کا کہانی کے مطابق ہونا, اور عید پر ہونا اس کے دس نمبر تھے. اس کے بعد دوسری چیز ہوتی ہے ….الفاظ کی حد …..آپ کو ایک مخصوص پلاٹ چن کر شرط کے مطابق دے گئے الفاظ کے اندر اندر کہانی کو سمیٹنا ہوتا ہے. اگر معمولی سی توجہ دی جائے تو یہ کام کیا جا سکتا ہے. اور بہت سے لکھاریوں نے ایسا کر دکھایا … اب جس نے بہت زیادہ الفاظ لکھے تو اس کا مطلب ہے آپ نے انتظامیہ کی شرط کی خلاف ورزی کی جس پر نمبرکاٹ لئے جاتے ہیں. اور اس ایونٹ میں بہت سے افسانوں کے ساتھ ایسا ہوا ہے. جو کہ بہت اچھے تھے لیکن شرائط کی خلاف ورزی کرنے پر ان کے نمبر کاٹ لئے گے. جیسا کہ ایک افسانہ 2000الفاظ پر مشتمل تھا. صاف ظاہر اس کے زیادہ نمبر کاٹ لئے گے…
عنوان, الفاظ, پلاٹ کے بعد آپ کو تحریر میں رموزو اوقاف اور املا پر توجہ دینا ہوگی.. روانی و تسلسل کا خیال رکھنا ہوگا. کوشش کریں افسانہ یا کہانی تخلیقی ہو۔کسی اور کا کاپی شدہ یا سرقہ نہ ہو. ایک دو ایسے افسانے پڑھنے کو ملے جو سرقہ تھے صاف ظاہر ہے ایسے افسانے کم. نمبر حاصل کر پائے.. اس ایونٹ کی شرائط میں ماحول سے مطابقت کی بھی شرط رکھی گی تھی جس کا بہت کم لکھاریوں نے خیال رکھا. آپ کی تحریر

 
اصلاحی ہو تو زیادہ بہتر ہے اسی طرح اپنی کہانی میں تجسس کو قائم رکھیں اس کی ابتدا …اختتام ..۔درمیانہ حصہ پر خصوصی توجہ دیں… مبصرین کے تبصرے کو ذاتی حملہ خیال نہ کریں.. اس ایونٹ میں ایک لکھاری کے افسانے کو اس کی ذاتی کہانی, آپ بیتی کہا گیا جس کا بہت صدمہ ہوا.. مبصرین کو بھی تبصرہ کرتے ہوئے ذاتیات کو زیر بحث نہیں لانا چاہیے. اس ایک ناخوشگوار واقعہ کے علاوہ پورے ایونٹ میں کوئی بدمزگی دیکھنے کو نہ ملی. مجھے خوشی اس بات کی ہے کہ ان میں جن لکھاری یسے ہیں ، جو اگر باقاعدہ سیکھیں تو بہت اچھا لکھ سکتے ہیں ۔میری طرف سے ایونٹ انتظامیہ, ڈیزائنرز, ایڈمنز, مبصرین, لکھاریوں کو ڈھیروں خراج تحسین. حوصلہ کو چاہیے ایسے ایونٹ منعقد کرواتے رہنا چاہیے تاکہ ادب کو آکسیجن ملتی رہے. میری دلی دعائیں حوصلہ کی حوصلہ مند انتظامیہ کے لئے ہیں.. اللہ اسے کامیابی سے نوازے .یہ گروپ ادب و ادیب کی بے لوث خدمت کرتا رہا…

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.