Pakistan Writers Welfare Association

مجھے حوصلہ سے محبت ہے ! تحریر ناصر ملک

282

ایک مخصوص دورانیے پر مشتمل عید رنگ کے عنوان سے فنی و تحسینی مقابلہ انجام پذیر ہوا اور کہانیوں اور افسانوں کے موازنے کے مراحل بہ حسن و خوبی طے پائے ۔بطور جج کے ٹاپ ٹین کا انتخاب کافی مشکل تھا. یہ بات نہایت حیران کن رہی کہ اس ایونٹ میں شامل ہونے والوں نے ایک سے بڑھ کر ایک تخلیق پیش کی۔ اکثر تخلیقات اتنی موثر، دلچسپ اور مستحکم ہیں کہ ان میں سے کسی ایک کا یا بہتر کا چنائو کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف تھا۔ یقینی طور پر مجھے یہ دیکھنا بھی بہت بھلا محسوس ہوا کہ اس ایونٹ میں تمام لائقِ ذکر شخصیات جن کا افسانے و کہانی کی تخلیق سے گہرا رشتہ استوار ہے، شریک ہوئے۔ میں نہ صرف یاسین صدیق کو اس خوبصورت بزم کے انعقاد پر مبارک باد دیتا ہوں بلکہ مبصرین, ڈیزائنرز اور شریک ہونے والے تمام قلم کاربھائی بہنوں کے ذوقِ شراکت کو بھی سراہتا ہوں۔

 

 

بجا طور پراس ایونٹ کو ایک یادگار بزمِ تحسین قرار دیا جا سکتا ہے جس میں تجربہ کار اور نو آموز قلم کاروں کی تخلیقات کو سراہنے، ایک موازے کی فضا میں لا کر آکسیجن فراہم کرنے اور تعریف و توصیف کے ذریعے ان کی توانائیوں کو مہمیز کرنے کا موزوں ترین اہتمام تھا۔جو احباب بھی اپنی تخلیقات کے سنگ اس بزم میں شامل ہوئے، ان کے افسانوں کو گروپ میں بہ اہتمام پڑھا گیا، بہ صدق شوق تعریف کی گئی اور بہ صد عجز و تحقیق نقد و نظر سے بھی کام لیا گیا۔ ہر تین پہلو قلم کاروں کے ہنر کو جلا بخشنے کیلئے اہم اور ضروری ہیں۔تنقید کا عمل اگر برائے اصلاح ہو تو نہایت مفید ہوتا ہے اور میری دانست میں یہاں کسی نے بھی کسی قلم کار کی تخلیق کو غیر اہم ثابت کرنے کیلئے تضحیکی اندازِ اسلوب سے تنقید نہیں کی بلکہ ہر ایک نے بڑے سنجیدہ اور محبت بھرے انداز میں اپنی فہم و فراست کے مطابق کمزور پہلوئوں پر روشنی ڈالنے کی کوشش کی ہے۔ اس کے جواب میں کہیں تلخ روئی کا مظاہرہ نہیں ہوا، یہ جوابی خوش آئند بات ہے۔ مجھے اندازہ ہے کہ ایسے بہترین پروگرام قلم کاروں کے ہنر کو مزید پختگی کی طرف راغب کرنے میں کامیاب ہوں گے۔

 

 

یاسین صدیق کے زیرِ اہتمام حوصلہ گروپ بلاشبہ نئے اندازِ فکر کے ساتھ جلوہ افروز ہے اور قلم کاروں سے مستقل رابطے بحال رکھتے ہوئے موازنہ جاتی فضا قائم کرنے میں کامیاب ثابت ہوا ہے۔
اس طرح کی طویل المدتی مجلسیں عمومی طور پر دلچسپی کھو بیٹھتی ہیں اور شرکا ایک ایک کر کے بزم سے اٹھتے جاتے ہیں مگر یہاں یہ دیکھا گیا کہ جو بزم میں آیا، پھر بزم کا ہو کر رہ گیا۔ یہ اس بے پایاں خلوص کے سبب تھا جو یاسین صدیق و دیگر ایڈمنز اور انتظامیہ اور گروپ کے دیگر شرکاء ہر نئے آنے والے قلم کار کیلئے اپنے دل میں جاگزیں رکھتے ہیں۔ 
مجھے یاسین صدیق,خرم شہزاد,شبیر علوی ان کے ساتھیوں اور حوصلہ گروپ کی انتظامیہ کو ان کی قابلِ قدر ادبی خدمات اور بہترین سرگرمیوں پر نہ صرف جذبہءِ تحسین پیش کرنا ہے بلکہ یہ دعا بھی دینی ہے کہ وہ آئندہ بھی اسی طرح بے لوث اور غرضِ مال و منال سے پاک ادبی خدمات سرانجام دیتے رہیں اور دوستوں کے درمیان رابطے کی فضا تشکیل دیتے ہیں۔

 

 

کہانی لکھنا بڑا کام ہے۔ کہانی کی موزوں ترین تشہیر کرنا بھی بڑا کام ہے اور یہ کام حوصلہ گروپ نے ہر کہانی کیلئے نیا بینر بنا کر بہ حسن و خوبی سرانجام دیا۔ یہ حقیقت ہے کہ بینروں کی ڈیزائننگ فی زمانہ رائج طرزِ اظہار کے مقابلے میں کسی حد تک کمزور ثابت ہوئی لیکن اس طرزِ تشہیر نے روایت کے نئے باب کھولے ہیں۔ یہ اضافی کام تھا جو حوصلہ گروپ میں افسانوں کے سرورق کیلئے بینر بنانے والوں نے پیشہ وارانہ ڈیزائنر نہ ہوتے ہوئے کیا اور وہ اس پر مبارک باد کے لائق ہیں۔گروپ کے ایڈمنز کیلئے الگ سے جملہءِ تحسین کہ انہوں نے دلچسپی قائم رکھنے کیلئے گروپ کی ادبی فضا میں چاشنی کے رنگ بکھیرے رکھے اور گروپ سے منسلک ہونے والوں کی دل بستگی کا سامان اس طرح کیے رکھا کہ جو آیا وہ بزم کا ہو کر رہ گیا۔

 

 

امید ہے کہ حوصلہ گروپ مزید بہتر انداز میں نئے قلم کاروں کی حوصلہ افزائی اور ترغیبِ مطالعہ کا اہتمام سرانجام دیتا رہے گا۔ چونکہ یاسین صدیق ذاتی طور پر تجاویز کا خیر مقدم کرنے والا قلم کار ہے، پر جوش ہے اور مستقل مزاجی سے خود تفویض کردہ کارہائے امتیاز سے وابستہ رہ کر کامیابیاں سمیٹنے کا ہنر جانتا ہے، اس لیے وہ ایک دن اس بزم کو دنیا بھر میں نہ صرف ممتاز کر لے گا بلکہ ایک کارواں کا درجہ دے کر جانبِ منزل رواں دواں ہو گا۔ 

 


حوصلہ 
یاسین صدیق اور ٹیم کی محنتوں کا ثمر — 
حوصلہ
نئےر استوں اور نئی منزلوں کی مسافتیں —
میری دانست میں حوصلہ گروپ کے ذریعے اُردو ادب بالخصوص افسانوی ادب کو حوصلہ دینا اور اس رنگیں دنیا سے وابستہ قلم کاروں کی توانائیوں کو مدنظر رکھ کر اعترافِ فن اور تقویتِ فن کے کام کو اس عمدگی سے سرانجام دینا اہم اور لائقِ ذکر پیش رفت ثابت ہوئی…
مجھے یاسین صدیق،شبیر احمد ,خرم شہزاد اورحوصلہ گروپ اور اس سےمنسلک تمام افراد و قلم کاروں سے محبت ہے۔ اور اس محبت پر مجھے فخر ہے۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.