Pakistan Writers Welfare Association

صبح کا بھولا (افسانہ) تحریر۔ اداس چاند

53


حوصلہ ایونٹ 2019عیدکےرنگ(افسانہ) 
رنگ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 63 
عنوان ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ صبح کا بھولا 
تحریر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اداس چاند 
الفاظ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 
بینر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 
Umm E Abdullah

ایک پٹاخے کی آواز کے ساتھ اس کی آنکھ کھلی ساتھ ہی "سائرن” کی آواز اور مسجد کے اعلان نے یہ واضح کر دیا کہ کل عید ہوگی۔اس اعلان کے ساتھ ہی اس کی آنکھوں میں کرب سمٹ آیا ۔وہ دن ایک بھیانک خواب کی طرح آج بھی اسے یاد تھا۔۔۔پرانے دور کے بنے اس گھر کے صحن کے ساتھ بیٹھک نما کمرے کی کھڑکی سے بابا نے باہر جاتے بیٹے کو مسلسل تیسرے دن آواز لگائی "پتر مینوں بخار لگدا اے توں ڈاگٹر کول لے چلیں افطار دے بعد! "
سارا دن تے توں منجی تے پیا رہنا ایں اوہی گرمی ہونی ۔ذرا آرام کر آپ ای ٹھیک ہوجوو ” بیٹے نذیر نے قدرے ترش لہجے میں جواب دیا ۔میں زرا شاہ جی کول چلاں کافی دن ان بعد آئے نیں انہاں توں دعا کراواں تاکہ حالات کج چنگے ہون۔
اکلوتے بیٹے کی شادی کے چند ماہ بعد ہی ماں کے انتقال کے بعد نذیر کی بیوی رضیہ نے اپنا اثر دکھانا شروع کردیا۔اور جلد ہی بابا جی کی آمدورفت بیٹھک تک یہ کہہ کر محدود کروا دی کہ گھر میں آنے جانے والیاں پردہ کرتی ھیں ۔اور گھر میں کھلنے والا دروازہ اس سوچ کے تحت بند کروا دیا کہ بابا جی کے ملنے ملانے والے آتے جاتے ہیں تو بے پردگی ہوتی ہے۔کھانا پینا بچے باہر کے دروازے سے دے آتے اور گھر میں رضیہ کا راج چلتا۔۔۔۔
شاہ جی کی بات کے جواب میں سب چپ ہی رہے ۔مگر دل میں نذیر نے سوچا کتنا کوجا بیٹا ہوگا جس نے باپ کو گھر چھوڑنے پر مجبور کردیا ۔میں نے تو شان سے رکھا ہے اس نے خود کو تسلی دی ۔
"جانتے ہیں کہ وہ بیٹا کون تھا ۔؟ جسکے برے روئیے نے باپ کو اس حد تک جانے پر مجبور کیا؟ شاہ نے پھر سوال کیا 
"وہ بدنصیب میں تھا۔
شاہ جی آپ ؟؟ 
سبھی چونکے نذیر بھی حیرت سے تکنے لگا
"ہاں میں ۔۔۔انکے اس اعلان کے بعد ہی میں سوچنے پر مجبور ہو کہ وہ اس حد تک جانے پر کیوں مجبور ہوئے ؟
گھر کے حالات اچھے کھانا پینا اچھا پھر کس بات کی کمی تھی انہیں؟ ۔
کمی تھی تو رشتوں کی ۔۔۔یہ مسئلہ آج عام ہے کہ گھر کے بزرگ "کامے”بن کہ رہ گئےمقرر کر دیے جاتے ہیں سودا سلف لانے پر
میرے دیس کر بوڑھے جب کمانا چھوڑ دیتے ہیںآج ہر شخص معاشی تنگدستی کے ھاتھوں پریشان ہے اپنے پیرومرشد سے دعائیں کرواتا ہے ۔مگر جس کی دعائیں قبولیت کا درجہ رکھتی ہیں انہیں ایک کونے تک محدود کردیا جاتا ہے ۔
کبھی سوچا ہے یہ کیوں ہوتے پوتیوں سے اتنا پیار کرتے ہیں ۔کیونکہ یہ ان میں اپنے ان بچوں کو دیکھتے ہیں جن کے پاس ان کیلیئے وقت تک نہیں ۔اور پھر جب یہ بچے بھی اپنے بزرگوں کو اپنے لیئے "ٹینشن”سمجھیں تو کہاں جائیں یہ بزرگ؟
مگر میں نے انہیں سمجھا انکی بات سمجھ آئی کہ "پتر وڈا آدمی بننے سے اچھا آدمی بننا بہتر ہے ۔۔۔

گھر لوٹتے نذیر کے دماغ میں فلم سی چل رہی تھی ۔کل کی سی ہی بات لگتی تھی جب تھکا ہارا محمود گھر آتا تو وہ کیسے”میرا جیرا پتر”کہہ کر گود میں بیٹھاتے اور وہ انہیں اپنی شرارتوں کے بارے بتاتا۔اسے وہ دن بھی یاد تھا جب ابا کی کئی کوششوں کے بعد پڑھائی نا کرنے پر ابا نے کتنا مارا اور اسے کام پہ لگایا۔
اپنی ساری جمع پونجی خرچ کرنے بعد اس نئی سکیم میں اپنا گھر لیا ۔اور آج گھر کا مالک ہی گھر میں قیدی کی زندگی گزار رہا ہے۔احساس جرم نے اسکے دل اور آنکھوں کو نم کر دیا تھا ۔
مگر گھر تک آتے آتے بہت دیر ہو چکی تھی ۔کہ اس کا باپ زندگی کی بازی ہار چکا تھا ۔وہ عید اس کے لئیے شدید پچھتاوا بن گئی تھی ۔
آج کئی سالوں بعد جب اس کا اکلوتا بیتا پڑھ لکھ کر اعلی درجے تک پہنچ گیا ۔ اسکی ماڈرن بہو نے معمولی کھانسی کو ٹی بی کا نام دے کر اسے ریسٹ روم تک محدود کردیا ۔درد کی ایک تیز لہر اسکے سینے میں دوڑ گئی ۔مگر جو اس نے بویا تھا وہ تو اسے کاٹنا ہی تھا۔
وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دیا ۔اچانک کمرے کا دروازہ کھلا ۔۔۔۔۔۔۔
جمیل اپنے والدین کی واحد اولاد ہونے کے ناطے جس لاڈ پیار کا مستحق تھا وہ اسے گھر کی معاشی تنگدستی کے باعث نا ملا ۔مگر اس نے ہمت نا ہاری اور محنت کرتے ہوئے ایم بی اے میں گولڈ میڈل حاصل کیا ۔ڈگری کے فورا”بعد اسے نوکری اور لڑکی دونوں ہی میسر آگئے ۔کیونکہ ایشال جو کہ شہر کے ایک کامیاب بزنس مین نعیم ملک کی لاڈلی بیٹی تھی ۔وہ نا صرف جمیل کی اچھی دوست تھی بلکہ اسے پسند بھی کرتی تھی۔پڑھائی ختم ہوتے ہی ایشال نے اپنے والدین کو اپنی پسند سے آگاہ کیا تو جہاندیدہ نعیم صاحب کو جمیل میں شرافت اور قابلیت دونوں نظر آگئے ۔اور جہاں ایشال کو اپنی پسندکا جیون ساتھی ملا وہیں نعیم صاحب کو اپنے کاروبار کے لیئے وارث۔


جمیل اپنی پچھلی زندگی کو خیر باد کہہ کر شہر میں آباد ہوگیا۔زیادہ سے زیادہ آسائشیں حاصل کرنے کی دھن میں وہ اس قدر مصروف ہوا کہ اپنے بچوں کیلیئے بھی وقت نکالنا اس کے لئیے مشکل ہوتا۔گھر کا مکمل انظام ایشال کے ہاتھ میں تھا ۔
آج بچوں کی شدید خواہش پر وہ بچوں کو عید کی شاپنگ کروانے کے لیے جلدی گھر آگیا ۔
"کیا لینا ہے میرے شہزادوں نے ؟ "
اس نے لاڈ بھرے لہجے میں پوچھا 
"پاپا میں نے اپنی شاپنگ کے ساتھ دادو کیلیئے بھی شاپنگ کرنی ہے”بڑے بیٹے کاشان نے جو اب بارہ سال کا ہو گیا تھا نے فورا”جوابدیا
بیٹے کی بات پر جمیل کو دھکا سا لگا کہ وہ تو جیسے بھول ہی گیا تھا بابا کو کبھی کبھار آتے جاتے وہ بابا سے حال چال پوچھا کرتا مگر ان کا جواب سننے کا ٹائم اسے کم ہی ملتا ویسے وہ مطمئن تھا کہ ایشال ہے نا ،اسی نے بابا کو انکی بیماری کے پیش نظر ریسٹ روم میں شفٹ کیا تھا وہ انکی دیکھ بھال کررہی ہوگی ۔
کیا لینا ہے میری جاں نے دادو کیلیئے 
"اے سی پاپا وہ انکے روم میں گرمی جو ہوتی ہے "اسے ایک اور دھکا لگا
پاپا میں آپکے لیئے بھی ایک اے سی لونگا چھوٹا شانی بھی فورا”بولا 
کیوں جان پاپا کے لیئے کیوں "اس نے حیرت اور محبت سے پوچھا 
"وہ اس لیئے کیونکہ جب آپ بوڑھے ہوکر اس روم میں رہیں گے تو آپکے لیئے بھی تو ہونا چاہیے نا !
اس کا دل کانپ گیا اس نے دونوں کو گلے سے لگایا اور نم آنکھوں کے ساتھ بابا کے کمرے کی طرف بڑھا ۔اسے دیکھ کر نذیر حیرت میں ڈوب گیا۔وہ آگے بڑھا اور باپ کے سینے سے لپٹ گیا اور رو رو کر معافی مانگی ۔باپ کا چہرہ خوشی سے دمکنے لگا کہ اس عید صبح کا بھولا گھر آچکا تھا

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.