Pakistan Writers Welfare Association

عیدکی خوشیاں (افسانہ) تحریر۔ ارسلان سیف الفاظ

42

حوصلہ ایونٹ2019عیدکےرنگ(افسانہ) 
رنگ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 56 
عنوان ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عیدکی خوشیاں 
تحریر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ارسلان سیف
الفاظ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 1356
بینر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نیئر عابدکاظمی

اُس کا کھانا پینا تو اب ویسے بھی براۓ نام رہ گیا تھا،اور اوپر سے رمضان اُس مریضِ عشق کیلیے کھُلا میدان ثابت ہو رہا تھا ، جس محنت اور مشکل سے اماں آصف کو سحری کیلیے جگاتی اِسطرح صرف کوئی ماں ہی جگا سکتی ہے اور کسی کے بس کی بات نہیں ،آصف کاباپ تو اِس تمام معاملے سے بے خبر دبئی میں روزگار کے سلسلے میں مقیم تھا ، اب تو آصف کا معمول بن گیا تھا ، بس وقتِ افطار کی دیر ہوتی ،کچھ پانی اور چند نوالے اسکے پیٹ میں اُترنے کی سعادت حاصل کرتے ، باقی ساری مُشقت اُسکے پھیپھڑوں کو کرنی پڑتی جنہیں وہ رات گئے تک تمباکو اور چرس کے دھویں سے مصروف رکھتا،آصف کو نائلہ کے ساتھ گزرہ ایک ایک لمحہ قرب کے پُرخار جنگل میں سے ننگے پاؤں گزارتا ، وہ اِس کچی عمر کے عشق اور اوپر سے بے وفائی کو ایک ساتھ جھیلنے کا پُر خطر تجربہ کر رہا تھا ، نائلہ ایک بڑے گھر کی لاڈلی لڑکی تھی جس کا بچپن پیرس میں گزرہ تھا ،پیرس کی ساری خوبصورتی اور رونق جیسے اُسی کے روپ میں جلوہ گر تھی ، سُنہری بال کسی شیشے کی عمارت سے منعکس ہونے والی دلفریب دھوپ کی طرح دیکھنے سے تعلق رکھتے تھے، سُرخ ہونٹ اور نیلی آنکھیں کسی کا دل بھی پاش پاش کرنے کی طاقت رکھتے تھے ، وہ اپنے بچپن کے آخری ایام میں ہی گجرات آ گئی تھی جہاں پر لانا اُسکے مشرقی روائت کے دلدادہ باپ کی حسرت تھی ، وہ خود تو ایک زمانے میں دو نمبر طریقے سے یورپ گیا تھا ، لیکن اب وہ اپنی مشرقی روایات کا قائل ہو چکا تھا ، نائلہ کی ماں ایک فرینچ عورت تھی جس پر نائلہ کے باپ احمد کی مشرق سے مُحبت کے آثار نمایاں تھے ،


نائلہ اور آصف کی کہا نی یونیورسٹی سے شروع ہوئی تھی نائلہ اور آصف یونیورسٹی میں اِکٹھے آئی آر میں ماسٹر کر رہے تھے ، نائلہ اپنے منفرد اورخوبصورت خدوخال اور نقش و نگار کی وجہ سے سبھی کی توجہ کا مرکز تھی ، سبھی لوگ کلاس میں نائلہ کے ساتھ گپ شپ کا کوئی موقعہ نہیں جانے دیتے تھے ،تبھی آ صف مِیاں کی منفرد خاموشی نائلہ کو زیادہ سنائی دیتی تھی،وہ اُسکی خاموشی کو جبر سمجھتی تھی ،اُسے پہلی بار اندازہ ہو رہا تھا کہ سکوت بھی کتنے بڑے طوفان برپا کرسکتا ہےاور سردمہری بھی کتنی جلن رکھتی ہے، ایک دِن نائلہ فون پر بات کرتے یونیورسٹی داخل ہوئی ،فون بند کرتے ہوۓ نائلہ کہ منہ پر ایک مسکان تھی ،جونہی کلاس میں داخل ہوئی اُسکی ساری مسکان شدید غصے میں بدل گئی، آصف کو دیکھتے ہی اُس نے اُکتاہٹ کا اظہار کیا ، اور دِل ہی دل میں ٹھان لِیا کہ آج وہ اس سے کچھ بلوا کہ ہی رہے گی ورنہ وہ اس کلاس میں مزید نہیں چل سکتی ، اُسنے کلاس کے آختتام کا انتظار کِیا ، اور کلاس ختم ہوتے ہی آصف کی کُرسی کی طرف چل دی ،وہ قابو سے باہر لگ رہی تھی ، یہ اُسکی عادت میں مغربی جھلک تھی ورنہ مشرقی خواتین کو اتنی اتنی باتوں پر کچھ فرق نہیں پڑتا ، خود کو قدرے سنبھالتے ہوۓ بولی ؛ "تم سمجھتے کیا ہو اپنے آپ کو ؟ کیوں میرے لیے دردِ سر بنے ہوۓ ہو .. تمہیں دیکھ کہ مجھ پر نحوست طاری ہوتی ہے ..آخر تمہیں مسلہ کیا مجھ سے ..؟ کیا بُرا کر دِیا میں نے تمہارا ..” اِس تمام گفتگو کے دوران بھی آصف مسلسل سر جھکاۓ بیٹھا رہا ، "اگر تمہیں میرا یہاں آنا اچھا نہیں لگتا تو بھی بتا دو میں کوئی بندوبست کر لیتی ہوں "


یہ الفاظ سُن کر آصف نے سر اُٹھا کر آنکھوں سے بر ملا "نہیں "کہا اور ساتھ ہی ساتھ آنکھوں میں وہ کچھ کہا جس کا نائلہ نے کبھی مشاہدہ نہیں کِیا تھا ، وہ تو محض اپنی حساس طبیعت سے مجبور یہ سب کر رہی تھی لیکن ادھر آصف مِیاں نے نئ ہی کہانی کھول دی تھی ، کچھ دِن گزرنے پر آصف نے زبان سے بھی اظہار کر دیا اور بتایا کہ میری خاموشی دراصل میرا سکتہ تھی جو تم کو دیکھ کر مجھ پر طاری ہو جاتا تھا ، مجھ میں ہمت نہیں تھی کہ سب تم سے باتیں کریں اور میں بھی اُن سب کا حصہ بن کر تم کو دیکھوں اور جی بہلاؤں ، نائلہ کو بڑی حد تک تو اِن باتوں کی سمجھ نا آتی مگر پھر بھی وہ اُس کے جذبات کو خاطر میں لاتے ہوۓ ہاں میں ہاں مِلاتی جاتی، 
فائنلز ہوگئےاور آصف مِیاں بھی ذہنی طور پر فائنل کر چکے تھے کہ جو کچھ ہے اب نائلہ ہی ہے ، وہ اب کم کم ہی مِلتے لیکن جتنا وقت ملتے آصف گہری باتیں کرتا ، ایک دِن نائلہ کے پیرس میں مقیم کزن کا فون آیا اور اُس نے نائلہ کے پڑھائی کے بعد شادی کرنے کے وعدہ کو دہراتے ہوۓ اُسے پیرس آنے کا کہا ، نائلہ کے والد ناچاہتے ہوۓ بھی اُسکی آزادی میں دخل نہیں دیتے تھے ، اِس طرح کسی بھی قسم کے مشورے سے گریز کِیا، اب آصف کی دیوانگی کا یہ کم سے کم اثر تھا کہ نائلہ کو لگا آصف کو مِل کر جانا اُس کے لیے آسان نہیں ہوگا ، سو وہ جیسے بھی کر کے آصف کو بِن بتاۓ پیرس کو روانہ ہوگئی ،نائلہ کوگئے دو ماہ ہوگئے تھے ، آصف نے دو ماہ میں جو اچیو کِیا تھا وہ یہ تھا کہ ۱۰سے۱۲کلو وزن کم کرلِیا تھا رنگ سفید سے زردی مائل ہو گیا تھا ، رہتا سہتا آصف اب روزوں کی نظر ہورہا تھا ،
آج تیسواں روزہ تھا اور کل عید تھی ، اتفاق سے اِس مرتبہ عید پاکستان اور یورپی ممالک میں ایک ہی دِن تھی، 


افطاری کے دستر خوان پر آصف کی ماں بیٹھی تھی اور مزید کھانے کی چیزوں سمیت آصف بھی پڑا ہوا تھا ،دروازے پر بلکل ہلکی سی دستک ہوئی ، دستک میں کوئی اِلتجا تھی ، گھنٹوں کھڑے رہنے کی ہمت تھی ، آصف کی اماں اِتنی مدھم آواز سُننے سے عاجز تھی ، جب ۲،۳ منٹوں میں یہی دستک ۳،۴ دفعہ ہوئی تو ، آصف نے ہمت کی اور یہ سوچ کر کہ کوئی مانگنے والا افطاری کیلیے کچھ لینے آیا ہو گا ، دو روٹیاں لپیٹ کر دروازے کی طرف بڑھا ، دروازہ کھولا اور اپنے خواص کھو بیٹھا ، اُسے اپنی آنکھوں پر یقین نہیں آرہا تھا اور دِل کی بے ترتیب دھڑکن اُسے عجیب کیفیت میں مبتلا کر رہی تھی ، وہ دیکھتا کیا ہے کہ ، دروازے پر ایک دوشیزہ سُرخ رنگ کی شلوار قمیص میں ملبوس تھی ، سفید چادر سے سر ڈھکا ہوا تھا اور بائیں کان کی لو کے نیچے سنہری بالوں کی ایک لٹ نظر آ رہی تھی ، اُس دوشیزہ کے پیچھے اُس کے ماں باپ موجود تھے جو قدرے فاصلے پر کھڑے شائد اُس دوشیزہ کو ملنے والے سگنلز کا انتظار کررہے تھے ، آصف نے ہمت کر کے دیکھا تو وہ نائلہ اور اُس کے ماں باپ تھے ، آصف نے بِلا تاخیر اُنھیں اندر آنے کا کہہ دِیا ، اندر داخل ہوتے ہی وہ ہال میں موجود ایک پلنگ پر سہمے ہوۓ بیٹھ گئے ، کسی کے پوچھنے کاانتظارکِیے بغیر نائلہ رونے والے لہجے میں بولی ” آصف یہ تمُ نے کیا ظلم کر دِیا ہے ..؟ "آصف یہ سب سُن کر چونک گیا ۔ پھر نائلہ بولی ،” مجھے کِسی کی آنکھوں میں تمہارے جیسی روشنی نظر نہیں آتی ، جو کچھ تمہاری آنکھیں کہتی ہیں مغرب میں آنکھوں کویہ زباں نہیں آتی .. پرائی نظر پڑنے پر کسی میں تمہارے جیسی جلن نظر نہیں آتی جو میرا کہ میرا حق ہے ..،کوئی بھی اس طرح میری روح کو نہیں چھو پاتا جس مہارت سے تم اِس کو مس کرتے ہو ، مختصر کہ میں تمہاری خاطر مغرب کی رنگینیاں چھوڑ آئی ہوں ، مجھے تم ہی اپنا لو میں تمہارے ہی لائق رہ گئی ہوں ،” ابھی نائلہ کی گفتگو جاری تھی کہ آصف کی اماں دھاڑیں مار کر رونے لگی اور آصف بھی زاروقطار تھا ، نائلہ کے والدین آنکھوں میں نمی لِیے ہلکا مسکرا رہے تھے ، عید کو جیسے مہندی کا رنگ چڑھ گیا تھا..

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.