Pakistan Writers Welfare Association

معصوم خواہشیں (افسانہ) تحریر ۔ ماہم انصاری

39

حوصلہ ایونٹ 2019 عید کے رنگ (افسانہ ) رنگ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 12 
عنوان ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ معصوم خواہشیں
تحریر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ماہم انصاری
الفاظ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 1119
بینر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ نورین مسکان

"ہائے سوئیں!” اس نے للچائی نظروں سے لان کی میز پر رکھے سوئیں کے باؤل کو دیکھا۔
"چپ ہو جا۔ انہوں نے سن لیا تو کتنا برا ہوگا۔ اور یہ کیا ہر وقت بندروں کی طرح دیواروں پر ٹنگی رہتی ہے۔ چل نیچے اتر” انہوں نے بمشکل دیوار پر چڑھی سفید بنگلے کے لان میں جھانکتی نازیہ کو گھورا۔
"اماں کیا ہے؟ دیکھ ہی تو رہی ہوں کھانے تو نہیں لگی۔ کیا تھا جو تھوڑا حصہ ہمارا بھی لگا دیتے۔ الٹا یہاں کام پر لگا دیا۔ کیا عید صرف امیروں کی ہوتی ہے؟ ہم غریبوں کی نہیں؟” وہ چھلانگ لگا کر نیچے اتر آئی تھی اور اب اماں کے کان کھا رہی تھی۔
"اچھا چپ ہو جا اب۔ دوسروں کے مال پر نظر نہ رکھا کر۔ ہمارے پاس جو ہے اس میں صبر شکر سے زندگی گزار لے” انہوں نے ہمیشہ کی طرح اسے نصیحت کی۔
"تھوڑی سی سوئیں ہی تو مانگ رہی ہوں۔ ان کے یہاں دیگیں بھری پڑی ہیں مگر مجال ہے جو ہمیں پوچھ لیں۔ سارا دن ان کے گھر کے کام کرو اور بدلے میں چند سو مل جاتے ہیں” وہ وہیں گھاس پر آلتی پالتی مار کر بیٹھ گئی۔
"اور جو کوارٹر دیا ہوا ہے؟ تیرے سر پہ جو چھت موجود ہیں نہ وہ بھی انھیں کی دی ہوئی ہے۔ ناشکری نہ ہو تو” اماں نے خفگی سے سر ہلایا۔
"اچھا نہ اماں! پر سوئیں تو لا دیں” اس نےجیسے منت کی۔ وہ چند پل اس کی آنکھوں میں موجود خواہش کو دیکھتی رہیں پھر بغیر کچھ کہے دوبارہ صفائی میں جت گئیں۔
"اماں! لا دیں نہ” وہ ان کے سامنے آ کھڑی ہوئی۔
"نازو تو سمجھتی کیوں نہیں ہے؟ ہم نوکر ہیں ان کے۔ کس طرح سوال کر سکتے ہیں؟ اور تو شازی بھابھی کو جانتی ہے۔ انہیں کتنا ناپسند ہے ہمارا سوال کرنا۔ چل آ جا کام کروا لے۔ اس کے پیسے ملیں گے نہ تو تیرے لیے سوئیں بنا دوں گی۔ قرضہ ہی سارا پیسہ کھا جاتا ہے نہیں تو آج ہم بھی عید مناتے” انہوں نے اسے پچکارتے ہوئے دوبارہ کام کرنے پر اکسایہ۔
"اماں زندہ باد!” خوشی سے نعرہ لگاتے ہوئے وہ ان سے لپٹ گئی جبکہ وہ اس کے بچپنے پر سر ہلا کر رہ گئیں۔


"اماں آج تو کچھ زیادہ پیسے مانگ لیتی” اس نے اماں کے ساتھ کوارٹر کی طرف بڑھتے ہوئے کہا۔
"نازو! ہر وقت کی ناشکری اچھی نہیں ہوتی۔ یہ بھی نہ ملتے تو؟” اس دفعہ انھوں نے اسے نرمی سے سمجھانا چاہا۔
"پر اماں! آج عید ہے۔ عید کے دن بھی ہم نے کام کیا ہے، روز کی طرح۔ عیدیں ایسی ہوتی ہیں بھلا؟ اتنی بے رنگ اور پھیکی؟” اس کی آنکھوں میں اداسی کی پرچھائیاں نظر آنے لگی تھیں۔ اس سے پہلے کہ اماں کچھ کہتیں نگو دوڑی چلی آئی۔
"اماں..آپی…..وہ…..بھیا..بھیا!” وہ اتنی گھبرائی ہوئی تھی کہ ٹھیک سے بول بھی نہیں پا رہی تھی۔
"کیا ہوا ہے گڈو کو؟” اس نے پریشانی سے پوچھا۔ نگو نے کچھ کہنے کے بجائے کوارٹر کی طرف اشارہ کیا۔ وہ تیزی سے کوارٹر کی طرف بھاگی۔ اماں نے بھی اس کی تقلید کی۔
"اللہ!” اس نے بے اختیار اپنے دل پر ہاتھ رکھا۔ سامنے گڈو چارپائی پر بے ہوش پڑا تھا اور اس کے سر سے خون بہے جا رہا تھا۔ اماں کی حالت غیر ہونے لگی۔
"یہ….یہ کیسے ہوا؟” انہوں نے پیچھے کھڑی نگو کو مخاطب کیا۔ "اماں اسے اٹھانے میں میری مدد کریں۔ اسے ہسپتال لے جانا ہوگا” اس نے بمشکل خود کو سنبھالتے ہوئے گڈو کے سر میں قریب پڑا دوپٹا مضبوطی سے باندھا۔ پھر دونوں بمشکل اسے باہر لائیں۔ تب تک نگو رکشا لا چکی تھی۔ اسے رکشہ پر لٹا کر وہ تینوں بھی اندر بیٹھ گئیں۔ گڈو کو فوراً ایڈمٹ کر لیا گیا تھا۔
"نگو ہوا کیا تھا؟” اس نے آنسو بہاتی نگو کے ہاتھ تھام کر سوال کیا۔
"آپی..شازی بھابھی نے اسے مارا تھا” اس نے ہچکیوں کے درمیان بتایا۔ وہ اپنا شک صحیح ثابت ہونے پر خاموش سی ہوگئی جبکہ اماں ششدر رہ گئی تھیں۔
"کیوں؟ کیا کیا تھا گڈو نے؟” ان کا کلیجہ پھٹنے لگا۔
"وہ کسی کام سے لان کی طرف گیا تھا۔ میں پودوں کو پانی دے رہی تھی۔ وہیں میز پر سوئیں کا ڈونگا رکھا تھا۔ اس نے ذرا سی سی سوئیں کھائی تھی اس میں سے” پوری بات سن کر نازیہ کا حوصلہ جواب دے گیا اور کب کے رکے آنسو سارے بند توڑ کر تیزی سے باہر چلے آئے۔
"میں منع کرنے لگی تھی پر اسی وقت اندر سے شازی بھابھی آئیں اور انہوں نے گڈو کو بہت مارا۔ اماں وہ روتا رہا اور میں اسے بچا بھی نہیں پائی” اس کے آنسوؤں میں مزید تیزی آگئی۔ اماں خاموش ہو گئیں۔ کہنے کو کچھ رہ ہی نہیں گیا تھا۔ عید کا رنگ سیاہ پڑتا جا رہا تھا۔ کچھ فاصلے پر موجود ڈاکٹر صمد کی آنکھوں میں بھی افسوس ابھرا پھر وہ خاموشی سے آگے بڑھ گئے۔


گڈو کو روم میں شفٹ کر دیا گیا تھا۔ اماں اور نگو کو اس کے پاس بھیج کر اس نے پہلے شکرانے کے نوافل ادا کئے پھر کمرے کی طرف چلی آئی۔ کمرے کا منظر دیکھ کر اس نے حیرت سے آنکھیں پھاڑیں۔
"یہ کیا؟” اس کے منہ سے بے اختیار نکلا۔ گڈو مزے سے بیٹھا سوئیں کھا رہا تھا۔ نگو بھی اس سے دوگنی اسپیڈ میں سوئیں کے ساتھ انصاف کرنے میں مگن تھی۔
"تو بھی آ جا نازو! نہیں تو یہ ندیدے تیرے حصے کا بھی کھا جائیں گے” اماں نے مسکرا کر کٹورا اس کی طرف بڑھایا۔
"یہ کیسے؟” اس نے سوالیہ نظروں سے انہیں دیکھا پھر گڈو کے قریب بیٹھ گئی۔
"یہ عید کی خوشی میں ڈاکٹر صمد کی طرف سے ہے۔ سارے اسپتال میں بانٹی ہے۔ میں نہ کہتا تھا کہ میں کوئی کام یوں ہی نہیں کرتا۔ اب آج یہ نہ ہوتا تو ہمیں یہ نصیب ہونا تھی؟” گڈو نے سوئیں کے کٹورے کی طرف اشارہ کیا۔ اس نے آنسو بھری آنکھوں کے ساتھ مسکرا کر اس کے سر پر ایک چپت لگائی۔
"آہ آپی!” گڈو کے منہ سے ایک کراہ برآمد ہوئی۔ اس نے ہنستے ہوئے اس کے کھلے منہ میں سوئیں سے بھرا چمچہ ٹھونس دیا۔
"تو بھی تو کھا” اماں نے چمچہ بھر کر اس کے منہ میں رکھا۔ اس نے آنکھوں کے کنارے پر ٹکا آنسو صاف کیا۔ عید کے پھیکے رنگوں میں میٹھی سوئیں نے جیسے پھر سے جان ڈال دی تھی۔ ڈاکٹر صمد نے ادھ کھلے دروازے سے ان کے خوشی سے بھرپور چہروں کو دیکھا اور مسکرا دیے۔ آج جو سکون ان کے دل میں اتر رہا تھا اس سے پہلے کبھی ایسا سکون نہیں اترا تھا۔ یہ ان کی یادگار عید تھی۔ انہوں نے واپس اپنے آفس کی طرف جاتے ہوئے اپنی ہر عید کو اسی طرح یادگار بنانے کا فیصلہ کیا تھا۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.