Pakistan Writers Welfare Association

بلاعنوان (افسانہ) تحریر عائشہ یاسین

292

#آخری عید کا رنگرنگ……… 77
الفاظ۔۔۔۔2031
بینر۔۔۔۔
نورین مسکان
بلا عنوان
تحریر عائشہ یاسین 


” بیٹا تو آگیا کافی دیر لگادی۔” اماں نے آتے ہی مجھے دروازے پر گھیر لیا تھا۔ 
” جی اماں کام میں تو دیر ہو ہی جاتی ہے۔” میں نے اماں کو ٹالنے کے لئے کہا۔ 
” آپ یہاں کیا کر رہی ہیں۔ آپ کو تو اپنے کمرے میں ہونا چاہیے تھا اس وقت۔” 
نہیں بیٹا! مجھے تیرے آنے کی فکر ہورہی تھی۔ صبح بھی تیرا چہرہ نہیں دیکھ پاتی۔ آج دل بڑا بے چین تھا۔ اس لئے تیرا انتظار کر رہی تھی۔”
ماں نے توقف کے بعد پھر بولنا شروع کیا۔ 
” آج سارے انتظام صحیح سے کئے تھے نا۔ ابا کے نام کا جوڑے اور کھانا کھلا دیا نہ تونے غریبوں کو۔” اماں بڑی آس سے میرے چہرے کو تکنے لگی تھی اور میرے اثبات میں ہلتے سر کو دیکھ کر مطمئن ہوچکی تھی۔ پر مجھے تو کچھ یاد نہ تھا۔ کیا آج ابا کی برسی تھی مجھے تو یہ بھی یاد نہ رہا کہ ابا کو گئے کتنے برس ہوگئے اور سچ پوچھو تو مجھے یہ بھی نہیں پتہ کہ میرا باپ بھی تھا۔ 
میں نے گھر کی ملازمہ سے اماں کو کمرے میں لے جانے کا کہہ کے زینے کی طرف بڑھ گیا۔ 
—————
” ماں!اب چھوڑ دے یہ کام کرنا۔ اب میں افسر لگ گیا ہوں۔ جتنا کام کرنا تھا تونے کرلیا۔ اب آرام کیا کر۔” میں نے اپنی ماں کا ہاتھ چومتے ہوئے کہا تو اماں کی آنکھوں سے آنسو رواں ہوگئے۔ 
اماں جوانی میں ہی بیوہ ہوگئی تھی اور میرا بچپن اماں کو محنت کرتے اور دوسروں کے گھر کام کرتے دیکھتے گزرا تھا ۔ وہ دن میں لوگوں کے گھر کام کرتی اور باقی وقت سلائی مشین لے کر بیٹھ جاتی تھی۔ میری ماں کا تعلق کسی بڑے گھرانے سے نہ تھا. ابا بھی فقط جائداد میں ایک چھوٹا سا مکان چھوڑ کے گیا تھا۔ دادی اور چاچاوں نے ابا کے تیجے کے بعد کبھی خیر خبر نہ لی۔ننھیال میں ایک ماموں کے سوا کوئی نہ تھا اور ماموں بھی سعودیہ میں مقیم تھے۔ اماں پڑھی لکھی نہ تھی کہ کسی اسکول میں نوکری کر لیتی یا ٹیوشن پڑھا کر گزارہ کر لیتی۔ زندگی کا پہیہ اسی دھوپ چھاوں کے سنگ چلتا رہا۔ میری ماں نے دن رات محنت کرکے مجھے اچھے سے اچھے تعلیمی ادارے میں پڑھایا۔ میں اس کی اکلوتی اولاد تھی اور اس کے سپنوں کا محور بھی۔

قسمت نے اچانک سے پلٹا کھایا اور ترقی نے قدم چومنا شروع کردیا۔ کیا معلوم میری ماں کی دعا تھی یا میری محنت مگر میں نے دن دوگنی رات چوگنی بلندیوں کو چھونا شروع کردیا۔ اسی عرصے میں میرے باس کی بیٹی نے مجھ میں دلچسپی ظاہر کی اور بات شادی تک آ پہنچی۔ میرے باس حسن عظیم صاحب ب اس رشتے پر رضامند تھے۔ یہ میری زندگی کا سب سے بڑا دن تھا۔ 
"اماں! میرے باس تجھ سے ملنا چاہتے ہیں۔ ” میں نے اماں کو بتایا۔ 
” کیوں بیٹا کیا کچھ غلطی کر بیٹھا ہے۔ اسکول کالج میں بھی کتنی دفعہ جانا پڑتا تھا مجھے۔ ” اماں نے خفگی سے کہا۔ 
” ارے نہیں اماں! اب تیرا بیٹا بڑا ہوگیا ہے۔ وہ کوئی دوسری بات کرنے والے ہیں تو یہ کپڑے پہن لے میں نے تیرے لئے خریدے ہیں۔ بس جلدی سے تیار ہوجا۔ ” میں اماں کے قدموں میں بیٹھا اس کے ہاتھوں کو چوم رہا تھا۔ اماں میرے ہاتھ چومتے پر کھل کھل جایا کرتی اور بدلے میں میری پیشانی کو چوم لیا کرتی تھی۔ 
اماں کا پیشانی چومنا مجھے بےحد سکون دیتا تھا۔ لگتا تھا دنیا جہاں کی ٹھنڈک جسم و جاں میں سما گئی ہو۔ ذہن تمام الجھنوں سے آزاد ہو جایا کرتا تھا۔ 
میری گاڑی جب بڑے سے بنگلے پر رکی تو اماں حیرت کے مارے مجھے دیکھنے لگی۔ جب گارڈ نے دروازہ کھول کر گاڑی کو اندر جانے دیا تو اماں مجھ سے پوچھنے لگی کہ میں ان کو کہاں لے آیا ہوں۔ جواب میں میں نے ان کو بتایا یہی حسن عظیم صاحب کا گھر ہے۔ نہایت ادب و احترام سے نوکروں نے ہمیں مہمان خانے میں بٹھایا۔ 
بیگم حسن نے اماں سے مل کر خاص خوشی کا اظہار نہیں کیا مگر میری اماں اس قدر بھولی خاتون تھی کہ ان کے مہمان نوازی پے واری جارہی تھی۔
سارہ سے میری شادی طے ہوگئی تھی مگر سارے مرحلے میں اماں محظ ایک خاموش فریق کی مانند شامل رہیں۔ سارہ کی ساری توجہ مجھ پر مرکوز تھی اور میں نے بھی اس وقت اپنی ماں کی رائے کو کوئی اہمیت نہ دی۔ شاید مائیں جب غریب ہوں تو ان کا وجود اہم نہیں رہتا کیونکہ دولت کی چمک سی آنکھیں چندیا جاتی ہیں۔ جو وجود ہمیں پالتے پالتے خود کو فنا کر گزرتا ہے، ہمیں سینچتا ہے، ایک ننھے پودے کی مانند اور جب ہم جوانی کے حدود میں داخل ہوجاتے ہیں تندرست و توانا ہوجاتے ہیں تو ہمیں اپنی ماں کا جھڑیوں سے بھرا چہرہ برا گزرنے لگتا ہے۔ یہی میرے ساتھ ہوا۔ مجھے اپنی اماں کا ذرا خیال نہ آیا اور میں نے خود کو آسمان میں اڑتا محسوس کرتا رہا۔ 
"اماں یہ کون سا سامان تو باندھنے بیٹھ گئی۔ ” میں نے جھلا کر پوچھا۔ 
اماں کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے۔ 
” کچھ نہیں بیٹا کچھ تیرے ابا کی یادیں ہیں وہ سمیٹ رہی ہوں۔”
میں نے اماں کی بات کو نظر انداز کرتے ہوئے باہر آنے کا کہا۔ 
اماں نے مجھے ویران آنکھوں سے دیکھا جیسے بہت سے سوال اس کے زیر لب مچل رہے ہوں مگر مجھے نہ کچھ دکھائی دے رہا تھا نہ سجائی۔ 
سارہ نے اپنی پسند سے بنگلا خریدا جوکہ حسن صاحب نے اس کو تحفے میں دیا تھا۔

” جب تو بڑا افسر بن جائے گا نہ۔ تو میں تیری دلہن ڈھونڈ کر لاوں گی اور اپنے ہاتھوں سے اپنے بیٹے کو دلہا بناوں گی۔” اماں اکثر سلائی کرتے کرتے مجھ سے کہا کرتی اور میں شرما کر اپنی کتاب اپنے منہ کے آگے رکھ لیتا۔ 
مگر جب میں دلہا بنا تو اماں مجھے کہیں دکھائی نہ دی۔ اس قدر شان و شوکت سے شادی کے انتظامات کئے گئے تھے کہ اماں اس محفل کی چکا چوند میں کہیں کھو گئی تھی۔ 
سارہ کو پالینا میری زندگی کی سب سے بڑی کامیابی تھی۔ گھر سارہ نے خود سجایا اور گھر کے نچھلے حصے میں اماں کو رہنے کے لئے کمرہ دیا۔ وہاں اماں کے رہنے کا یہ فائدہ تھا کہ نوکروں کے کمرے بھی وہیں تھے تو اماں کو تنہائی کا احساس نہ ہوتا۔ 
میرے پاس اتنا ٹائم ہی کہاں تھا کہ میں اماں کی خود دیکھ بھال کرسکتا۔ میرے نزدیک سارہ کا فیصلہ صحیح تھا کیونکہ سارہ آج کے زمانے کی لڑکی تھی اس کو اماں کے پرانے خیالات کی کیا سمجھ تھی۔ پھر اماں نے بھی تو کچھ نہ کچھ کہہ ہی دینا ہوتا تھا اور بےچاری سارہ کا موڈ آف ہو جایا کرتا۔سارہ کی سنگت اس قدر حسین تھی کہ مجھے اپنا ماضی یاد نہ رہا۔ میں سارہ کے سنگ آگے بڑھتا رہا۔ بزنس میٹنگز، پارٹیز اور سوشل ورک میں کب ٹائم گزرا پتا نہیں چلا۔ 
” نذیر اس رمضان گرینڈ افطار پارٹی کا انتظام کرنا ہے اور راشن کی تقسیم بھی سب سے زیادہ۔ میں نہیں چاہتی کہ مسز فیصل اس بار سوسائٹی میں نام کما لیں۔” سارہ نے مجھے سختی سے کہا۔ 
” ارے نہیں جان! جہاں مرضی آئے جو مرضی آئے کرو۔ مجھے تو بس تمہاری خوشی پیاری ہے۔ ” یہ کہہ کر میں کمرے سے نکلا تو ملازمہ نے اکے بتایا کہ اماں کی طبیعت بہت خراب ہے۔ مجھے ایک ضروری میٹنگ میں پہنچنا تھا۔ جب اماں کے کمرے تک پہنچا تو اماں درد سے نیم بے ہوش تھی میں نے ملازمہ سے ڈاکٹر کو بلانے کا کہہ دیا اور آفس جاپہنچا۔ 
زندگی اس قدر الجھ گئی تھی کہ وقت گزرنے کا پتہ نہ چلا۔ اللہ نے دو بیٹوں اور ایک بیٹی سے نوازہ تھا۔ اب وہ بھی جوانی کے حدود میں شامل ہورہے تھے۔ سب کی اپنی سوشل زندگی تھے اور سب ہی اپنے مستقبل کے لئے کوشاں تھے۔

رمضان کا بابرکت مہینہ آچکا تھا اور سارہ اس دفعہ بے حد مصروف تھی۔ مجھے اس کا اس طرح انسانیت کی خدمت کرنا بڑا بھاتا تھا۔ وہ ملک کی ایک بڑی سماجی کارکن کی حیثیت سے مشہور تھی۔ اس رمضان بھی اس نے دل جمعی سے کام کیا۔ اماں ہمیشہ کہا کرتی تھی کہ اللہ کے مخلوق کی خدمت سے اللہ خوش ہوتا ہے۔ 
میں نے اماں کو کبھی رمضان کے روزے چھوڑتے نہیں دیکھا۔ اماں نے سوم و صلوہ میں زندگی گزاری اور پل پل میری ترقی اور کامیابی کی دعا کی لیکن شاید اپنے لئے دعا کرنا بھول گئی۔ یہ مائیں ایسی ہی ہوتی ہیں۔ اپنے حصے کی ساری خوشی اپنی اولاد پر وار دیتی ہیں اور کبھی اپنے حصے کی زندگی بھی۔ یہ مائیں اپنے بچوں سے عشق کرتی ہیں تبھی تو ان کو جتنا جھڑک دو پھر بھی وہ راہ تکتی نہیں تھکتی۔ میری اماں بھی ایسی ہی تھی۔ ہر وقت میری منتطر رہتی تھی۔ اس کو میرے آفس جانے اور آنے دونوں وقت کا علم رہتا۔ اپنے ٹوٹے پیر کے باوجود وہ میرا دیدار کرنے ضرور نکل آتی۔
کئی دن سے اماں مجھے دیکھنے میری گاڑی تک نہیں آئی تھی۔ میں نے سوچا واپسی پر آج اماں کے پاس بیٹھ آوں گا۔ 
” نذیر آپ ڈائریکٹ وہیں آجائیے گا۔ آج افطار پارٹی ہے۔ اور میلاد کی محفل بھی ہے۔” سارہ نے جاتے جاتے آواز دی اور میں گاڑی میں بیٹھ کر روانا ہوگیا۔ 
شام میں روزہ افطار کے بعد بڑی بابرکت میلاد کی محفل سجی۔ ملک کے سبھی بڑے نعت خواں شریک تھے۔ بیان و قرات نے خوب روح پرور سماء باندھا۔ کہیں رات کے دو بجے میری نظر میری ملازمہ اور دیگر نوکروں پر پڑی ۔ دل اچانک سے ڈر سا گیا۔ نظروں نے ادھر ادھر اماں کو تلاش کرنا شروع کیا پر مجھے اماں نظر نہ ائی۔ میں اپنی جگہ سے اٹھا اور سارہ سے اماں کا پوچھا 
” سارہ اماں کہاں ہیں؟” 
سارہ نے لاپروائی سے کہا
” گھر پر اور کہا ہونا ہے ان کو؟” 
مگر سارے نوکر تو یہاں ہیں؟ کیا بچوں کے پاس چھوڑ آئی ہو ان کو؟” اب مجھے اماں کی فکر ہوئی، 
” اوہ ہو! آپ کو معلوم تو ہے کہ بچے اپنے دوستوں کے ساتھ مصروف ہوتے ہیں وہ کہاں گھر پر ہوں گے۔” سارہ نے وضاحت دی اور آگے بڑھ گئی۔ 
” اماں!” دل سے ایک کسک نکلی اور دل و دماغ سے بادل چھٹ گئے۔ میں تیزی سے گاڑی کی طرف بڑھا۔ میرے کانوں میں مسلسل اماں کی آوازیں آنے لگی۔ وہ سارے منظر آنکھوں کے گرد گھومنے لگے جو میں نے اپنی ماں کے ساتھ گزارے۔ 
میں اپنی گاڑی تیزی سے دوڑا رہا تھا۔ آج اماں کی بہت یاد آرہی تھی۔ 
” اماں میں آرہا ہوں اماں !” میں نے دل میں اماں کو آواز دی ۔
گھر پہنچا تو وہاں کوئی موجود نہ تھا۔ پورا گھر اندھیرے میں ڈوبا تھا سوائے چند قمقمے کے۔ میں نے لائٹیں جلائی اور اماں کے کمرے میں پہنچا تو وہاں اب بھی اندھیرا تھا۔ 
مجھے کان میں اماں کی آواز ائی، 
” بیٹا مجھے اندھیرے سے ڈر لگتا ہے۔” اماں اکثر بجلی کے چلے جانے پر مجھ سے کہا کرتی اور میں ہنس کر کہتا ” ارے اماں میں ہوں نا تیرا تارا، تجھے کیا ڈر۔۔۔” 
” اماں تیرا تارا آگیا اماں۔۔۔؟ ” میں بڑبڑایا اور کمرے کی لائٹ کھول دی۔ 
اماں کا سارا کمرہ اجڑا پڑا تھا۔ سائڈ ٹیبل پر افطاری کا ساز و سامان ویسے ہی سجا پڑا تھا۔ پر سامنے دوا اور پانی زمین پر گرا ہوا تھا۔ 
” اماں! کیا ہوا اماں؟ ” میں لرزتا ہوا آگے بڑھا اور اماں کو تھام لیا۔ پر اماں نے جواب نہیں دیا۔ وہ وجود جس کی مامتا سے میری روح تقویت پاتی تھی وہ وجود ٹھنڈا ہو چکا تھا۔ وہ شفقت بھرا سایہ میرے سر سے چھٹ چکا تھا۔ میں نے اپنی ماں کے بے جان وجود کو سینے سے لگایا تو سرہانے مجھے اماں کی عیدی نظر آئی جو وہ مجھے ہر ستاسویں شب دیا کرتی تھی ۔وہی سفید کرتا اور ٹوپی۔ آج بھی یہ عیدی میرے لئے سجائے رکھے تھی ۔ آج بھی وہ مجھے میری عیدی دے کر خوش دیکھنا چاہتی ہوگی۔پر میں نے آنے میں بہت دیر کردی تھی اتنی دیر کہ میری ماں میری راہ تکتی رہ گئی اور میری عید ویران کرگئی۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.