Pakistan Writers Welfare Association

خاص عید (افسانہ) تحریر ۔ عبدل جی

28

حوصلہ ایونٹ2019عیدکےرنگ(افسانہ ) 
رنگ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 75 
عنوان ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ خاص عید 
تحریر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عبدل جی 
الفاظ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 
بینر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 
نورین مسکان

عصر کی نماز کے بعد مولوی صاحب مختصر درس دیا کرتے تھے. اور آج تو آخری روزہ بھی تھا اس لئے وزیر خان کو امید تھی کہ مولوی صاحب عید کے حوالے سے فطرانہ وغیرہ کے امور پر روشنی ڈالیں گے. مگر مولوی صاحب بھی عجیب بندے تھے. موقع محل کے مطابق نہیں چلتے تھے. کہنے لگے "کل انشاءاللہ عید ہے. تمام دوستوں سے گزارش ہے کہ عید کی تیاری فرما لیں. کسی سے زیادتی کی ہے تو معافی مانگ لیں اور کسی نے آپ کا دل دکھایا ہے تو معاف کرنے کی نیت کر لیں. آپ لوگ جانتے ہیں ہر سال ہم عید مناتے ہیں مگر سب سے خاص عید کس کی ہوتی ہے؟ اس کی….. جس کے دل میں کسی کے لئے غصہ نہ ہو یا جو کسی کی زیادتی کو اللہ کی خاطر معاف کر سکے ” وزیر خان نے درس کے بعد دعا کی اور مولوی صاحب کی باتوں کو سوچتا ہوا مسجد سے باہر آ گیا. یہ شہر کا معروف چوراہا تھا جس کے دائیں طرف وزیر خان کی کریانہ کی دوکان تھی. وزیر خان مسجد سے نکل کر اپنی دوکان کی جانب رخ کرنے لگا تھا کہ اس کی نظر سڑک کے ہمراہ موجود نالے کے پانی پر پڑی جو اپنی حدود سے باہر بہہ کر راستے کو داغدار کر رہا تھا. وزیر خان نے ایک نظر اپنے سفید کپڑوں پر ڈالی اور یہ سوچ کر دوسرے رستے کا رخ کر لیا کہ آج زرا چہل قدمی کرتے ہوئے لمبے رستے سے دوکان کی طرف جاتے ہیں. ان کا شاگرد ارشد قابل بھروسہ لڑکا تھا اس لئے اس کی موجودگی میں وہ دوکان کے امور سے مطمئن رہتا تھا .

اسی لئے وہ مطمئن انداز میں چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتا آگے بڑھ رہا تھا اور دوکاندار حضرات کا حال احوال بھی دریافت کرتا جا رہا تھا . پھر ایک دوکان آئی جس پر نہ وہ رکا اور نہ ہی سلام دعا کی. بس تیز قدموں سے آگے بڑھ گیا . یہ راشد صاحب کی دوکان تھی. راشد صاحب اس کے استاد تھے. برسوں پہلے جب وزیر خان اس شہر میں آیا تھا تو راشد صاحب نے ہی انہیں دوکان میں کام پر رکھا تھا. وزیر خان بھی خوب محنتی تھا تھوڑے ہی عرصے میں دوکان کی ضرورت بن گیا تھا. مگر پھر ایک دن…. دوکان کے کیش میں پچاس ہزار کی پر اسرار کمی نے معاملے کو بدنما رخ دے دیا. راشد صاحب خدا جانے کیوں وزیر خان کی ایمانداری پر شک کر بیٹھے اور اسے کام سے نکال کر پولیس کے حوالے کرنے لگے تھے کہ ہول سیل بیوپاری آن پہنچا جس نے راشد صاحب کو یاد کروایا کہ پچاس ہزار تو راشد صاحب نے دو دن پہلے اس کی ادائیگی کی تھی جسے لکھنا وہ بھول گئے تھے. اب راشد صاحب کی حالت یہ کہ کاٹو تو لہو نہیں. انہیں شدید ندامت نے آن گھیرا. مگر تب تک وزیر خان جا چکا تھا. اس نے تہیہ کر لیا تھا کہ بھوک سے مرتا ہے تو مر جائے گا مگر آئندہ راشد صاحب کے پاس نہیں آئے گا. وہ دن اور آج کا دن….. پانچ سال بیت گئے تھے اس بات کو….. کل کا دوکان ملازم وزیر خان آج اپنی ایمانداری کی بدولت ذاتی دوکان کا مالک بن چکا تھا. حالات بہت بدل چکے تھے مگر نہیں بدلی تھی تو راشد صاحب کے لئے روا رکھے جانے والی نفرت نہیں بدلی تھی. کتنی عیدیں بیت گئی تھیں….. کتنے لوگوں نے صلح کروانے کی کوشش کی تھی….. مگر…. وزیر خان اور راشد صاحب کی سلام دعا بند تھی. اچانک وزیر خان کو یاد آیا کہ ہو سکتا ہے مولوی صاحب نے آج درس میں بھی یہ بات وزیر خان کو ترغیب دلوانے کے لئے کی ہو. مگر….. نہیں….. مولوی صاحب اس کرب کی اذیت کیا جانیں جب دس لوگوں کے سامنے آپ کو ناکردہ جرم پر چور قرار دے دیا جائے……

یہی سوچ کر وہ چپ چاپ آگے بڑھ گیا . افطاری سے تھوڑی دیر قبل وہ گھر جانے ہی لگا تھا کہ ایک روح فرسا اطلاع نے اس کے ہوش اڑا دئے. ننھا علی چھت سے گر گیا تھا اور سر پر شدید چوٹ آئی تھی. اسے ہسپتال پہنچا دیا گیا تھا اور وزیر علی بھی بھاگم بھاگ ہسپتال پہنچا تو اسے معلوم ہوا کہ ڈاکٹر نے سی ٹی اسکین وغیرہ کروایا ہے جس کی رپورٹ بظاہر صاف ہے امید یہی ہے کہ علی تھوڑی دیر تک ہوش میں آ جائے گا. یہ سن کر وزیر علی کی جان میں جان آئی. خدا نے پیسہ بہت دے رکھا تھا. فوراً صدقہ دینے کا ذہن بنایا اور چپ چاپ باہر نکل آیا. سامنے سے شہزاد آتا دکھائی دیا تو وزیر خان نے اسے تسلی دی کہ علی اب ٹھیک ہے پریشانی کی بات نہیں. ساتھ ہی پیسے نکالے اور اس کے ہاتھ پر رکھ دئے. "رکھ لو…. تمہارے حالات اچھے نہیں” شہزاد نے ایک نظر وزیر خان کو دیکھا اور کہا "وزیر چچا…. شکریہ….. لیکن میری ایک بات مانیں گے؟” وزیر خان حیران ہوا…. "ہاں بولو” جس پر شہزاد کہنے لگا "وزیر چچا…. میری کل ہی نوکری لگی ہے…. مالک اچھے ہیں…. عید کے لئے خرچہ بھی دیا ہے. آپ نے جو پیسے دئے ہیں ان کی مجھ سے زیادہ اس وقت ایک اور انسان کو ضرورت ہے اگر آپ مناسب سمجھیں تو انہیں دے دیں ” ہاں ہاں بتاؤ کسے ضرورت ہے میں خود دے کر آتا ہوں
چچا…. راشد صاحب کو ان پیسوں کی زیادہ ضرورت ہے آپ انہیں دے دیں. 
شہزاد کی اس بات پر وزیر خان اچھل کر رہ گیا 
راشد صاحب…. لیکن وہ تو…. 
جی چچا راشد صاحب….. جنہیں مجھ سمیت محلے کے بہت سے لوگ پیسے والا سمجھتے ہیں مگر وہ راشد صاحب کی حالت سے بے خبر ہیں. راشد صاحب نے دوکان تک گروی رکھ دی ہے اپنے بیٹے کے علاج کے لئے. ننھے قیصر کے دل میں سوراخ ہے اور اس کے علاج میں وہ سب کچھ لٹا بیٹھے ہیں "
شہزاد اور بھی نجانے کیا کہہ رہا تھا مگر وزیر خان کے کان سنسنا رہے تھے….. اتنا کچھ ہو گیا تھا اور وزیر خان لاعلم تھا. اگلے بیس منٹ عجیب سے تھے. وزیر خان راشد صاحب کے پیروں میں پڑا ہچکیاں باندھے رو رہا تھا اور راشد صاحب بوکھلائے سے اسے چپ کروانے کی کوشش کر رہے تھے. ظلم وہی نہیں ہوتا جو آپ کے ساتھ ہوتا ہے ظلم تو وہ بھی ہوتا ہے جو آپ انا کے خول میں قید رہ کر دوسروں پر کرتے ہیں. راشد صاحب تو وزیر خان کا اولین محسن تھا اور اسی کی حالت سے اتنی بے خبری؟؟؟ وزیر خان کو مولوی صاحب کی بات کی سمجھ لگ گئی تھی. وہ فاصلہ جسے پانچ برسوں کی انا نہ مٹا سکی تھی اسی فاصلے کو معمولی سی بات نے ختم کر ڈالا تھا. وزیر خان جب وہاں سے آیا تو اس کا دل ہلکا ہو چکا تھا. اس نے دل میں ارادہ کر لیا تھا کہ قیصر کا علاج وہ خود کروائے گا. ایک عجیب سا اطمینان تھا جو وزیر خان کی روح تک کو سرشار کئے دے رہا تھا. اسی اثنا میں فون کی گھنٹی نے اسے اپنی جانب متوجہ کیا. فون سننے پر معلوم ہوا کہ علی کو نہ صرف ہوش آ گیا تھا بلکہ اسے گھر بھی لے گئے تھے. وزیر خان نے خدا کا شکر ادا کیا اور تیز قدموں سے گھر کی جانب روانہ ہو گیا. آج بھی خدا نے اس پر اپنا کرم کیا تھا. آج بھی خدا نے اسے سرخرو کیا تھا.اگلے دن عید تھی. وزیر خان ننھے علی کی انگلی تھامے عید گاہ کی طرف جا رہا تھا اور ساتھ ہی ساتھ اسے سمجھا رہا تھا کہ "ہر سال ہم عید مناتے ہیں مگر سب سے خاص عید کس کی ہوتی ہے؟ اس کی….. جس کے دل میں کسی کے لئے غصہ نہ ہو یا جو کسی کی زیادتی کو اللہ کی خاطر معاف کر سکے……” ننھا علی باپ کی باتوں کو بھرپور توجہ سے سن کر سمجھنے کی کوشش کر رہا تھا. علی تو ابھی ننھا تھا اسے وقت لگے گا ان باتوں کو سمجھنے میں….. مگر کیا ہم اپنی عید کو اس عید پر خاص عید بنا پائیں گے؟

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.