Pakistan Writers Welfare Association

مرجھائے ھوئے پھول( افسانہ) تحریر ۔ صبیح الحسن

329

حوصلہ ایونٹ2019عیدکےرنگ(افسانہ) 
رنگ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 74 
عنوان ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مرجھائے ھوئے پھول 
تحریر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ صبیح الحسن 
الفاظ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔950 
بینر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 
نورین مسکان
 

تاریک اور اداس کمرے میں تنہا لیٹا قطب دین لمحوں کا شمار کھو چکا تھا۔ ایک جمود اس کا احاطہ کیے ہوئے تھا. "دیواروں کے کان تو ہوتے ہیں اے کاش زبان بھی ہوتی.” اس نے سوچا. دیواروں سے طویل بے فائدہ خطاب کے بعد وہ لیٹا ان کے نقش پڑھنے کی کوشش کر رہا تھا کہ اچانک ایک دیوار شق ہوئی، قطب دین گھبرا گیا. دیوار میں دروازہ پیدا ہو چکا تھا. دروازے سے کوئی داخل ہوا اور اس کے قریب آ کھڑا ہوا۔ وہ کون تھا یا کیا تھا قطب دین کچھ سمجھ نہ سکا۔ آنے والے نے دلچسپی سے قطب دین کا جائزہ لیا اور بولا "قطب دین! کیا تم مجھے جانتے ہو؟” قطب دین نے نفی میں جواب دینا چاہا لیکن الفاظ منہ میں ہی گھٹ کر رہ گئے۔ "تم انسان معمولی چیزیں یاد بھی کہاں رکھتے ہو۔” وہ ہلکی سی ہنسی کے ساتھ بولا۔ "چلو تمہیں کچھ یاد دلاتا ہوں۔” اس نے انگلی سے اشارہ کیا اور سامنے کی دیوار پہ جیسے کوئی فلم سی چلنے لگی۔

دیوار پر خان پیلس نظر آ رہا تھا۔ عید کے دن کا اجالا پھیل رہا تھا اور گھر کا سربراہ امیر محمد خان باغیچے میں کھڑا اپنے باس کے لیے بجازو گلاب کے پھولوں کا گلدستہ بنا رہا تھا۔ قطب دین مالی پاس ہی کھڑا دیکھ رہا تھا۔ امیر محمد نے سب گلاب چن لیے اور پھر انہیں گلدستے میں سجانے لگا. ایک عمر رسیدہ پھول جو مرجھانے لگا تھا اسے پسند نہ آیا اور اس نے اسے نکالا اور باہر رکھ دیا. خان پیلس کے بجازو کے پھول ساری کالونی میں مشہور تھے. امیر محمد کا باس بھی ان کی بہت تعریفیں کیا کرتا تھا. امیر محمد اسے آج انہی گلابوں کا تحفہ دینا چاہ رہا تھا. قطب دین امیر محمد کو دیکھتے ہوئے آہستہ سے بولا۔ "صاحب جی! کیا ایک بجازو میں بھی لے لوں؟” امیر نے چند لمحے حیرت سے اسے دیکھا اور پھر پودوں کی جانب دیکھا جہاں سے سارے پھول وہ چن چکا تھا۔ "تم کیا کرو گے اس کا؟” امیر نے حیرت سے پوچھا۔ "میری بیوی کو بھی یہ گلاب بہت پسند ہیں۔” قطب دین نے کہا۔ ” اچھا اچھا! یہ تم لے لو۔” امیر محمد نے الگ پڑا مرجھاتا ہوا پھول اسے پکڑا دیا۔ قطب دین نے چند لمحے پھول کو دیکھا اور پھر گہری سانس بھر کر قمیض کی اوپری جیب میں ڈال لیا، شاید امیر کے پاس دینے کے لیے یہی بچا تھا۔
"صاحب ایک اور درخواست کرنا تھی۔” قطب دین کی بات سن کر امیر اکھڑے سے لہجے میں بولا۔ "کیا بات ہے بھئی؟ پھر پیسے تو نہیں چاہئیں؟”
"نہیں صاحب جی! پیسوں کی بات نہیں، مجھے تھوڑی دیر کے لیے چھٹی چاہئیے تھی۔”
"چھٹی۔۔۔ ارے بھئی آج عید کا دن گھر سب مہمان آئیں گے انہیں بھی تو سنبھالنا ہو گا۔”
"جی صاحب یہ تو ہے۔ بس صاحب جی میں تھوڑی ہی دیر میں آ جاؤں گا۔” قطب دین نے اصرار کیا۔
"بھئی ابھی نماز کے بعد میں سی او صاحب اور ملک صاحب کے گھر جاؤں گا ، پھر لوگ گھر آنے لگیں گے۔ ہمیں سہ پہر میں بچوں کو ان کی خالہ کے ہاں لے کر جانا ہے، تب تم چلے جانا۔ لیکن واپس جلدی آنا.” امیر محمد نے تنبیہی لہجے میں کہا۔ "جی صاحب جی. بہت شکریہ.” قطب دین نے خوشی سے سر ہلایا۔ 
سہ پہر تک امیر محمد سے اس کے دوست اور آفس کے لوگ عید ملنے آتے رہے۔ شام کے قریب امیر محمد اور اس کے بیوی بچے روانہ ہوئے تو قطب دین نے بھی سائیکل سنبھالی اور تیز تیز پیڈل مارتا ہوا ایک جانب بڑھ گیا۔ کچھ دور جانے کے بعد وہ سائیکل کھڑی کر کے ایک احاطے میں داخل ہوا اور کچے راستوں پر چلتا ہوا سنگ مرمر کی بنی ایک حسین قبر کے پاس پائنتی کی جانب بیٹھ گیا اس نے قبر کو اپنی چادر سے صاف کیا اور زیر لب کچھ پڑھنے لگا۔ کچھ دیر ذکر اذکار کے بعد اس نے دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے تو اسے لگ رہا تھا کہ کچھ منتظر نگاہیں اس کے آس پاس کچھ تلاش رہی ہیں۔ لیکن ان نگاہوں میں پوشیدہ سوالات کا اس کے پاس کوئی جواب نہ تھا. اس نے دعا ختم کی اور جیب سے مرجھاتا ہوا پھول نکال کر خان محمد کے کتبے کے پاس رکھ دیا۔ "صاحب جی! یہ پھول چھوٹے صاحب نے ہی دیا ہے۔ آپ کو بجازو بہت پسند تھے نا۔ ” وہ اٹکتے ہوئے لہجے میں بولا اور پیچھے ہٹ گیا. واپس جاتے ہوئے اس نے سارے قبرستان پر ایک نگاہ دوڑائی۔ نہ جانے کتنی اداس نظریں اپنے امیروں کی راہ تک رہی تھیں۔ اس نے افسردگی سے سر ہلایا اور واپس چل دیا۔

اس نے پھر انگلی سے اشارہ کیا اور فلم ختم ہو گئی. قطب دین کو سارا واقعہ یاد آ چکا تھا۔ "تمہیں پتہ ہے آج بھی عید ہے؟” وہ قطب دین سے بولا۔ "مجھے نہیں پتہ۔ نہ میں جاننا چاہتا ہوں۔ مجھے یہ بتاو کہ تم کون ہو اور کیا ہو؟” قطب دین الجھے ہوئے لہجے میں بولا۔ "میں؟”وہ ہنسا. "میں وہی مرجھایا ہوا پھول ہوں جسے تم نے امر کر دیا. میں تم سے ملنے آیا ہوں اور تمہارے لیے کچھ تحفے لایا ہوں.” اس نے ہاتھ کو ہلکی سی جنبش دی اور جیسے نور کا دروازہ کھل گیا. تاریک اور حبس زدہ کمرہ تازہ اور مہکتے ہوئے پھولوں سے بھر گیا۔ پھولوں کی پتیوں سے نکلنے والی عجیب سی میٹھی سی روشنی سے کمرہ جگمگا اٹھا. تنہائی اور وحشت کہیں دور بھاگ گئی۔ اس نے قطب دین کی جانب دیکھا. قطب دین کی پتھرائی ہوئی آنکھوں میں حیرت اور بے یقینی کے ملے جلے تاثرات تھے۔ وہ مسکرایا اور جہاں سے آیا تھا اسی راستے سے قطب دین کی قبر سے باہر نکل گیا.

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.