Pakistan Writers Welfare Association

عیدکےرنگ اپنوں کےسنگ (افسانہ) تحریر عائزہ خان

29


حوصلہ ایونٹ2019عیدکےرنگ(افسانہ) 
رنگ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 73 
عنوان ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عیدکےرنگ اپنوں کےسنگ 
تحریر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عائزہ خان 
الفاظ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 
بینر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
نورین مسکان

السلام علیکم ماما کیا کر رہی ہیں ۔کل سے واپسی پر حرا نے گھر میں داخل ہوتے ہی باآواز بلند سلام کرنے کے بعد ماں سے پوچھا۔ وعلیکم السلام بیٹا رمضان آنے والا ہے ۔ تو سوچا گھر کی صفائی وغیرہ کر دوں ۔
روزے کے ساتھ مشکل ہوجاتا ہے ۔تاکہ رمضان میں خوب عبادت کر سکیں۔کتنے افسوس کی بات ہے ناں مما کہ ہم رمضان سے پہلے دل کی تو خوب صفائی کرتے ہیں۔ جالتے اتارتے ہیں ۔ لیکن دل کے جالے ویسے کے ویسے ہی رہتے ہیں ۔اس پر لگے جالے اتارنے کی کوشش بھی نہیں کرتے ہیں ۔ کیا مطلب امینہ بیگم نے سوالیہ نظروں سے بیٹی کی طرف دیکھا۔ مطلب یہ کہ مما ہم۔دنیا دکھاوے کو ہر چیز کر لیتے ہیں ۔لیکن دل نہیں صاف کرتے اللہ کی مخلوق کا دل دکھا کر کیسے دل میں ناراضگیاں رکھتے ہیں، نفرت، بغض رکھ کر ہم کیسے اپنے رب کو راضی کر سکتے ہیں ۔اللہ بھی تب تک ہماری عبادت قبول نہیں کرتا جب تک ہمارے دل صاف نہیں ہونگے۔ اچھا بس بہت ہوگئیں تمہاری نصیحتیں امینہ بیگم نے ڈانٹتے ہوئے حرا کو کہا۔مما پلیز، مان جائیں ناں حرا نے ایک اور کوشش کی ماں کو منانے کی۔لیکن انہوں نے اس کی ایک نہیں سنی اور اپنے کمرت میں چلی گئیں
دراصل حرا کے لیے اس کے کزن کا رشتہ آیا ہوا تھا۔انہیں اعتراض اس رشتے پہ نہیں انہیں اعتراض ان کے گاؤں سے ہونے پہ تھا۔ کیونکہ امینہ بیگم کو گاؤں کا ماحول پسند نہیں تھا۔ چونکہ ان کا، سسرال سارا گاؤں میں ہی رہتا تھا۔امینہ بیگم کے شوہر اشرف تعلیم یافتہ تھے۔اورشہر میں ملازمت کی وجہ سے رہائش پذیر تھے۔ گاؤں میں ان کی خاصہ زمینیں وغیرہ تھیں۔لیکن اشرف صاحب کو زمینوں وغیرہ سےکوئی دلچسپی نہیں تھی۔ زمینیں ان کے بڑے بھائی ہی سنبھالتے تھے۔امینہ بیگم سے شادی بھی انہوں نے اپنی مرضی سے کی تھی۔ اور امینہ بیگم نے شرط رکھی تھی کہ وہ شادی کے بعد شہر میں ہی رہیں گی ۔امینہ بیگم کی یہ شرط ان کے سسرال والوں نے مان لی تھی اور اب وہ اپنیبیٹی کے لیے بھی وہی شرط تکھی تھی۔لیکن عمر نے جسکا رشتہ حرا کے لیے آیا ہوا تھا۔انہوں نے امینہ بیگم یہ شرط ماننے سے انکار کر دیا تھا۔اس نے کہا تھا کہ وہ اپنی ماں کو دادی کی طرح بیٹے کی جدائی میں تڑپتے ہوئے نہیں دیکھ سکتا۔اور اس نے صاف کہہ دیا تھا اگر شادی کے بعد حرا گاؤں میں رہنا چاہتی ہے تو ٹھیک ورنہ نہیں ۔حرا کو بھی گاؤں میں رہنے پہ کوئی اعتراض نہیں تھا۔ کیونکہ وہ عمر کو پسند کرتی تھی۔کیونکہ عہ جب بھی عید پر یا خاندان میں کسی کی شادی ہوتی گاؤں جاتی تھی ۔اسے تایا کی حویلی اور گاؤں کا ماحول بہت اچھا لگتا تھا۔اس کا وہاں سے واپس آنے کا دل ہی نہیں کرتا تھا۔
اور اب جب اس کے دل مراد بر آئی تھی تو ماں مان ہی نہیں رہی تھی۔ حرا نے اس دن کے بعد ماں سے بات چیت ہی بند کر دی تھی۔ جوکہ اس کی ناراضگی کا اظہار تھا
اسی دوران رمضان المبارک کا بابرکت مہینہ اپنی تمام تر رحمتوں سمیت آ گیا تھا۔ 
رمضان کا دوسرا عشرہ گزرنے والا تھا ۔مگر امینہ بیگم ہنوز اپنے فیصلے پی ڈٹی ہوئی تھیں۔
اشرف صاحب نے بھی امینہ بیگم سے صاف کہہ دیا تھا کہ انہیں اپنی بیٹی کی خوشی سے زیادہ عزیز کچھ نہیں ۔انہوں نے بھی امینہ بی کو سمجھانے کی بہت کوشش کی ۔ لیکن امینہ بیگم نے انکی بھی نہیں مانی ۔
گھر میں ایک تناؤ بھرا ماحول رہنے لگا تھا۔اشرف صاحب صبح آفس چلے جاتے ۔اور حرا سارا دن اپنے کمرے میں بند رہتی ۔کالج سے اسکی چھٹیاں تھیں۔
ہر سال کی طرح اس سال بھی اشرف اور حرا عید گاؤں میں منانے کی تیاری کر رہے تھے۔لیکن امینہ بیگم نے اس سال عید پر بھی گاؤں جانے سے انکار کر دیا تھا
حرا نے ماں منانے کی اک اور کوشش کی مگر ماں نہیں مانیں۔یوں حرا اور اشرف ستائسویں روزے کو گاؤں کے لیے روانہ ہوگئے۔ 
امینہ بیگم کو اکیلا چھوڑ گئے کہ شائد اکیلا رہنے سے انہیں رشتوں کی کمی کا احساس ہوگا۔ 
شائد وہ اپنے فیصلے سے ہٹ جائیں شائد۔۔۔۔۔۔۔

گاؤں کا منظر:
آج انتیسواں روزہ تھا۔ اس بار گاؤں میں آکر بھی حرا کا دل اداس تھا۔ 
ماں کے بغیر اس کا دل نہیں لگ رہا تھا۔وہ ماںکو چھوڑ کےنہیں آنا چاہتی تھی۔لیکن اشرف صاحب نے حرا کو کہا کہ یہ ہی ایک طرفامجنہ بیگم کو احساس دلانے کا طریقہ ہے۔
انتیسواں روزہ بھی اختتام کو پہنچا۔عیدالفطر کا ر
چاند نظر آگیا تھا۔ ہر طرف سے پٹاخے اور شور و غل کی آوازیں آرہی تھیں۔حرا چھت کی منڈیر پہ اپنی دونوں کہنیاں ٹکائے چاند دیکھنے میں مگن تھی۔تب ہی اسے اپنے پیچھے کسی کے کھڑے ہونے کا احساس ہوا۔ اس نے پیچھے مڑ کے دیکھا تو ماں اپنے دونوں ہاتھ جوڑے کھڑی تھی۔ مما حرا نے دوڑ کر مما کے دونوں ہاتھ تھام لیے۔ ایم سوری مما حرا نے ان سے لپٹتے ہوئے کہا تھا۔وہ ماں کو دیکھ کر ساری ناراضگی بھول گئی تھی۔ 
نہیں بیٹا آپ مجھے معاف کردو میں نے ہمیشہ صرف اپنی خوشی دیکھی۔اپنے بارے میں سوچا اور اپنے فیصلے دوسروں پہ تھوپنے کی کوشش کی ۔یہ جانے بغیر کے دوسرا اس سے خوش ہے یا نہیں ۔دو دن تم لوگوں کے بغیر رہی ہوں تو مجھت احساس ہوا ہے کہ اپنے پیاروں کے خاص کر اہنی اولاد کی جدائی برداشت کرنا کتنا مشکل ہوتا ہے اک ماں کے لیے۔

مطلب مما آپ مان گئی ہیں۔اعراض مجھے پہلے بھی نہیں تھا اس بات پہ کیونکہ میں جانتی تھی کہ میری بیٹی بھی عمر کو پسند کرتی ہے۔ وہ تو میری فضول سی شرط اور انا تھی۔جو تمہاری خوشی کے آگے ہار گئی۔ میں گزرا وقت تو واپس نہیں لاسکتی لیکن آنے والے وقت کے لیے تو اچھا کر سکتی ہوں ۔
نیچے میں سب سے معافی مانگ آئی ہوں مجھے سب نے معاف کر دیا ہے مگر سب کی ایک شرط ہے ۔امینہ بیگم نے چہرے پہ مسکینیت طاری کرتے ہوئے کہا وہ کیا ۔۔حرا نے دھڑکتے دل کے ساتھ پوچھا۔ مما پلیز بتائیں ناں ۔انہوں نے کہا کہ کل ۔۔۔ یعنی عید کے دن تمہارا اور عمر کا نکاح ہوگا۔
میں نے کہا کہ مجھے تو کوئی اعتراض نہں ہاں حرا سے پوچھ لیتی ہوں کیا پتہ اسے ہو
۔امینہ بیگم نے ہنستے ہوئے کہا۔مما وہ بے ساختہ جھینپتے ہوئے ماں سے لپٹ گئ۔
عید مبارک مما ارے عید تو کل ہے امہنہ بیگم نے ہنستے ہوئے کہا 
ہاں مگر میرے لیے تو آج ہی عید ہے آپ ماں گئی ناں، سب کے ساتھ عید منانے کے لیے آ گئی ۔ اپنا دل صاف کر لیا ۔تو
میری تو آج عید ہوگی ناں ۔ہاں بیٹا میں سمجھ گئ ہوں کہ اپنوں کے ساتھ کے بغیر کوئی خوشی خوشی نہیں ہوتی اور عید کا اصل مزہ تو اپنوں کے ساتھ ہے

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.