Pakistan Writers Welfare Association

عیدکی چھٹی (افسانہ) تحریر ۔ لطافت نعیم

25

حوصلہ ایونٹ2019عیدکےرنگ(افسانہ) 
رنگ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 67 
عنوان ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ عیدکی چھٹی 
تحریر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ لطافت نعیم 
الفاظ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 819
بینر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 
نورین مسکان


منے اٹھ جا جلدی باپ کے ساتھ عید نماز پڑھنے نہیں جائے گا کیا؟ رضیہ نے منے کو جگانے کے لئے جھنجھوڑ ڈالا
"اٹھ رہا ہوں ماں ابھی تو بہت وقت ہے مولوی صاحب نے 8 بجے نماز کا اعلان کیا تھا ” بابر عرف منے نے کسلمندی سے آنکھیں کھول کر ماں کو دیکھا 
"تو تو اٹھ کر نماز کی تیاری نہیں کرے گا کیا؟ 7 بجنے والے ہیں اور کتنی دیر سے اٹھے گا؟ "
ماں نے کہنے کے ساتھ ساتھ ہاتھ پکڑ کر اٹھا کر بٹھا دیا 
"مجھے کون سا عید کی کوئی خاص تیاری کرنی ہے” 8 سالہ منے نے اپنے کپڑوں پر سرسری سی نظر ڈالتے ہوئے کہا
"چل اب زیادہ باتیں نہ بنا اٹھ جا” رضیہ نے بیٹے کی بات سن کر نظریں چراتے ہوئے کہا
بابر سستی سے اٹھ کر صحن میں لگے نلکے کی طرف چل دیا 
"منے چل آجا جلدی کہیں نماز نکل نہ جائے” توقیر نے دروازے کی طرف جاتے ہوئے آواز لگائی تو منا بھی جلدی سے چپل پاؤں میں اڑسنے لگا
"واپسی پر کچھ لے آنا پکانے کے لئے” رضیہ نے شوہر کو دروازے سے نکلتے دیکھ کر آہستہ سے کہا 
"اچھا” توقیر ٹھنڈی سی سانس لے کر دروازہ عبور کر گیاتوقیر ایک مزدور تھا جس کو ٹھیکے دار روز کی اجرت پر کام پر بلاتا تھا اور اس کا کام عید پر رک جاتا ہے. اس کی روز کی اجرت بس اتنی ہی ہوتی تھی کہ جس میں وہ اس دن پکانے کو دال آٹا اور ضروری مصالحہ خرید سکتا تھا بیٹے کو پڑھانے کے شوق میں اس نے کسی کام پر نہیں لگایا تھا بلکہ گورنمنٹ اسکول میں داخل کروادیا تھا اس کو ہر کلاس کے لئے کتب اور یونیفارم اسکول سے مل جاتا تھا تو توقیر کو بچے کی تعلیم کا خرچہ نہیں اٹھانا پڑتا تھا اس طرح وہ بیٹے کو تعلیم دلوانے کا اپنا شوق پورا کر رہا تھا

نماز کے بعد سب نمازی ایک دوسرے سے گلے مل کر مبارک باد دینے لگے. توقیر بھی چند لوگوں سے ملا اور پھر بیٹے کا ہاتھ پکڑ کر گھر کی راہ لے لی.
"کیا بات ہے توقیر آج گھر میں کھانا نہیں بنانا؟ کہیں دعوت پر جانے والے ہو کیا؟ "
وہ سر جھکائے سوچوں میں گم جا رہا تھا کہ محلے کے دکاندار نے آواز لگائی جس سے وہ روز کام سے واپسی پر سامان لیتا تھا
"نہیں” توقیر اس کے مذاق پر بس اتنا ہی کہہ سکا اور اپنے گھر کی جانب بڑھ گیا
"ابا ہمیں کوئی دعوت پر کیوں نہیں بلاتا؟” دعوت کا لفظ سن کر منے کے ذہن میں سوال کلبلایا 
"کبھی بلائیں گے إن شاء ﷲ” توقیر نے منے کو امید دلائی اور خود پھر سے سوچوں میں غلطاں ہوگیا
گھر واپس پہنچ کر رضیہ کی سوالیہ انداز میں اٹھی نظروں کا اس کے پاس کوئی جواب نہیں تھا سو اس نے نظریں چراتے ہوئے اس کے ہاتھ سے پانی کا گلاس لے کر لبوں سے لگا لیا
"امی مجھے بھوک لگ رہی ہے کچھ کھانے کو ہے؟ ” جس سوال کا خدشہ پورے راستے توقیر کو ستا رہا تھا وہ سامنے آگیا تھا
"چل کچھ دیر صبر کرلے پھر کچھ نہ کچھ دیتی ہوں” رضیہ نے بھرائے ہوئے لہجہ میں کہہ کر باورچی خانہ کا رخ کیا اور خالی ڈبے پھر سے کھول کھول کر دیکھنے لگی
"تھوڑا بہت آٹا بھی نہیں ہے جس سے منے کو روٹی بنا دے وہ خالی کھا لے گا” توقیر نے دروازے پر کھڑے ہو کر بے بسی سے کہا
"نہیں کچھ بھی نہیں ہے” آنکھیں نم ہونے لگیں
"چل تو فکر نہ کر اللہ بڑا مسبب الاسباب ہے میں باہر نکلتا ہوں شاید کچھ مزدوری مل جائے” توقیر سے بیوی کے آنسو برداشت نہیں ہوتے تھے
"منے دروازے پر دیکھ شاید ابا آئے ہیں؟ ” رضیہ نے دروازہ بجنے کی آواز سن کر منے سے کہا جو ابھی ابھی باہر سے واپس آکر منہ ہاتھ دھو رہا تھا
"سلام ابا” دروازہ کھول کر منے کو ابا کا چہرہ نظر آیا تو کچھ کھانے کو ملنے کی امید بھی بندھ گئی
"وعلیکم السلام! تیری ماں کہاں ہے؟ ” توقیر نے اندر آکر دروازہ بند کرتے ہوئے پوچھا
سامنے ہی رضیہ کھڑی تھی جس کا چہرہ شوہر کے خالی ہاتھ دیکھ کر بجھ گیا, توقیر نے بھی بیوی کی آنکھوں میں ٹوٹتی ہوئی امید دیکھ کر نظریں جھکا لیں. 
باپ کی جھکی نگاہیں دیکھ کر منا اپنے آپ کو گھسیٹ کر کمرے کی طرف لے جانے لگا.توقیر ٹھیکے دار کے پاس کچھ پیسے ادھار لینے گیا تھا جس سے کم از کم عید کی چھٹیاں گزر سکیں مگر ٹھیکے دار کے یہاں بڑی سی عید ملن پارٹی تھی جس کی وجہ سے وہ بہت مصروف تھے اس لئے انہوں نے اپنے نوکر کے ذریعے ملنے سے ہی انکار کروادیا تھا اور توقیر اپنا سا منہ لے کر واپس آگیا تھا
اب ان تینوں کو دوبارہ گھر کا چولہا جلانے کے لئے عید کی چھٹیوں کے گزرنے کا انتظار کرنا تھا

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.