Pakistan Writers Welfare Association

پہلی عید (افسانہ ) تحریر۔ خالدشیخ طاہری

46


حوصلہ ایونٹ عیدکےرنگ(افسانہ) 
رنگ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 48 
عنوان ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ پہلی عید
تحریر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ خالدشیخ طاہری 
الفاظ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ 1011
بینر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فیصل رحمان

والدین کی ناگہانی موت کے بعد الیزا وان نے اپنے والد کی کرسی سنبھلنے کا فیصلہ کرلیا۔ بظاہر یہ فیصلہ بہت مشکل تھا مگر الیزا کو اپنی قابلیت اور والد کی قابل اعتماد ٹیم پر پورا بھروسہ تھا۔ اس ٹیم کا ایک اہم رکن پاکستانی ڈاکٹر ثاقب بھی تھا۔ مائیکل وان یونیورسٹی ہسپتال کے انتظامات اپنے ہاتھ میں لے کر اس نے جس شخص پر سب سے زیادہ اعتماد کیا وہ ڈاکٹر ثاقب ہی تھا۔ جس نے ہر مشکل وقت میں اس کا ساتھ دیا۔ الیزا شروع سے ہی ڈاکٹر ثاقب کو پسند کرتی تھی اس کے دلی جذبات ڈاکٹر ثاقب پر عیاں تھے مگر وہ ایک فاصلہ رکھے ہوا تھا۔ وہ نہیں چاہتا تھا کہ الیزا اور خود کے لیے مشکل حالات پیدا کرے۔ دونوں کے درمیان سب سے بڑی رکاوٹ مذہب کی تھی۔ ڈاکٹر ثاقب اگرچہ روشن خیال تھا مگر اس کا تعلق ایک مذہبی گھرانے سے تھا۔
**** 
کہتے ہیں جذبوں میں صداقت ہو تو منزل خود سامنے آن کھڑی ہوتی ہے۔ 
” میں مسلمان ہونا چاہتی ہوں۔” الیزا کا یہ جملہ ڈاکٹر ثاقب کے لیے خلافِ توقع نہیں تھا۔ ڈاکٹر ثاقب جانتا تھا کہ الیزا کے اس فیصلے کے پیچھے کیا جذبہ کارفرما ہے۔ ڈاکٹر ثاقب نے صاف انکار کر دیا اور واضح الفاظ میں الیزا کو سمجھا دیا کہ” اسلام کو اس کی حقانیت جان کر قبول کیا جاتا ہے کسی اور مقصد کے لیے مسلمان ہونا مسلمان ہونے کی دلیل نہیں ہوتی۔”
” ٹھیک ہے… میں اسلام کی حقانیت جاننا چاہتی ہوں۔” الیزا کے لہجے کی قطعیات نے ڈاکٹر ثاقب کو مجبور کر دیا۔ دوسرے دن ہی اسلام کے بنیادی عقائد، سیرت طیبہ اور اسلامی قوانین کے متعلق لٹریچر الیزا کو فراہم کر دیا۔


جسے جیسے الیزا مطالعہ کرتی گئی ویسے ویسے اسے اپنے اندر نمایاں تبدیلیاں محسوس ہونے لگیں۔ وہ اب باقاعدہ حجاب میں آفیس آنے لگی۔ اسے ایک تحفظ کا احساس ہوتا۔ یہ پہلا احساس تھا جس نے الیزا کو اسلام سے اور قریب کر دیا۔ چھ ماہ کے عرق ریز مطالعہ کے بعد الیزا اچھی طرح جان گئی کہ اسلام ہی سچا مذہب ہے۔ الیزا نے جب اعلانیہ اسلام قبول کیا تو اپنے جاننے والوں پر واضح کر دیا کہ وہ اسلام کو اس کے حق پر ہونے کی وجہ سے قبول کر رہی ہے۔ ڈاکٹر ثاقب نے الیزا کا نام اپنی دادی کے نام پر زینب رکھا۔ زینب کی خوش قسمتی تھی کہ ایک ماہ بعد ہی رمضان المبارک کا مہینہ آ رہا تھا۔ ڈاکٹر ثاقب نے رمضان سے ایک دن پہلے زینب کو منگنی کی انگوٹھی پہنا دی اور نکاح پاکستان پہنچ کر عید والے دن مقرر کر دیا۔ دوران مطالعہ اور ڈاکٹر ثاقب کی رہنمائی میں زینب روزے اور نماز کا طریقہ پہلے ہی سیکھ چکی تھی۔ زینب نے اپنے گھر کے باہر گرجا گھر کے ساتھ ہی ایک چھوٹی سے مسجد بھی بنوانا شروع کر دی۔ ماہ رمضان خشوع وخضوع کے ساتھ گزار کر جب زینب ستائیسویں روزے کو پاکستان پہنچی تو ڈاکٹر ثاقب کے گھر میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ عید کی تیاریاں عروج پر تھیں۔ دو دن زینب نے ڈاکٹر ثاقب کی بہنوں کے ساتھ مل کر عید اور نکاح کی خوب خریداری کی۔ 
****
عید کے دن زینب کو دلہن بنا دیا گیا۔ نکاح کی تقریب عیدالفطر کی نماز کے بعد رکھی گئی۔ تقریب میں ڈاکٹر ثاقب کے قریبی رشتےدار شریک تھے۔ ولیمہ ایک ہفتے بعد رکھا گیا۔ زینب کی زندگی کی پہلی ہی عید اتنی خوشیاں لے کر آئی کہ وہ اپنی قسمت پر نازاں تھی۔ نکاح کے بعد ڈاکٹر ثاقب کی بہنیں اور کزنز مختلف رسومات ادا کرنے میں مشغول تھیں ہر طرف قہقہے بکھرے ہوئے تھے۔ رسومات کے بعد دونوں کو اکیلا چھوڑ دیا گیا یہ اشارہ تھا کہ اب ملن کی گھڑی میں کوئی روکاٹ نہیں۔ پہلی عید کا دن زینب کی زندگی کا سب سے خوبصورت دن تھا اور رات حسین ترین۔


عید کے دوسرے دن ڈاکٹر ثاقب کی بہنوں نے ہنگامہ کھڑا کر دیا کہ ” بھابھی کو لاہور گھمانا ہے۔” جب بڑوں نے ان کے فیصلے کی توثیق کر دی تو ڈاکٹر ثاقب کو راضی ہونا پڑا۔ مینار پاکستان، بادشاہی مسجد اور لال قلعہ دیکھنے کے بعد فیصلہ ہوا کہ قریبی پارک میں آئسکریم کھانے کے بعد گھر روانہ ہونا ہے۔ ڈاکٹر ثاقب زینب اور دونوں بہنوں کو پارک کے گیٹ پر اتار کر گاڑی پارک کرنے پارکنگ میں جگہ ڈھونڈنے لگا۔ زینب اپنی نندوں کے ساتھ پارک کے اندر کی جانب بڑھ گئی۔ پارک میں کافی رش تھا۔ بچے ہر طرف بھاگ دوڑ رہے تھے۔ ہر چہرہ خوشی سے دھمک رہا تھا۔ خواتین گھاس پر بیٹھی خوش گپیوں میں مصروف تھیں۔ زینب اور اس کی نندیں ابھی پارک کی ایک پینچ پر بیٹھی ہی تھیں کہ اچانک ایک زوردار دھماکے سے اچھل پڑیں۔ دھماکہ اتنا روز دار تھا زینب کے کان سن ہو کر رہ گئے۔ نندوں کو دیوانہ وار پارک کے باہر جاتے دیکھ کر زینب بھی ان کے پیچھے لپکی۔ باہر نکلتے ہی تباہی کا منظر دیکھ کر وہ وہیں بے ہوش ہو کر گر پڑی۔ جب زینب کو ہوش آیا وہ اپنے کمرے میں بیڈ پر لیٹی ہوئی تھی۔ حواس بحال ہوئے تو پارک کی پارکنگ کا پورا منظر اس کے نگاہوں کے سامنے گھوم گیا۔ وہ بے چین ہو کر جیسے ہی باہر جانے کے لیے اُٹھی، اسی اثناء میں کمرے کا دروازہ کھلا اس کی بڑی نند آ کر اس سے لپٹ گئی اور ہچکیوں سے روتے ہوئے زینب کو بتانے لگی۔ ” ڈاکٹر ثاقب اب اس دنیا میں نہیں رہا۔”
****
طیارے نے جیسے ہی برطانیہ کی زمین کو چھوا زینب کے رکے ہوئے آنسو بےاختیار چھلک پڑے۔ ائیر پورٹ کے باہر اپنی لگژری گاڑی میں بیٹھتے ہی وہ سسک پڑی۔وہ اپنا سب کچھ ہار کر پانچ ماہ بعد وطن واپس لوٹی تھی۔ لیکن وہ اکیلی نہیں تھی اس کے ساتھ ڈاکٹر ثاقب کی نشانی بھی تھی۔ گاڑی جب گھر کے صدر دروازے پر رکی۔وہ گاڑی سے اتر کر گھر کے ساتھ بنی دونوں خوبصورت عمارتوں کو غور سے دیکھنے لگی۔ جو برابر برابر استادہ تھیں۔ اس نے آنکھیں بند کیں ایک گہری سانس لی اور ایک عمارت کی جانب بڑھ گئی یعنی حق کی جانب بڑھ گئی۔
ختم شد۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.