Pakistan Writers Welfare Association

یتیم کی عید (افسانہ ) تحریر۔۔ رافعہ مستور

256


حوصلہ ایونٹ2019عیدکےرنگ ( افسانہ )
رنگ 27
عنوان ۔۔۔۔۔ یتیم کی عید
تحریر۔۔۔ رافعہ مستور
الفاظ ۔۔۔ 1069
بینر ۔۔۔ام عبداللہ۔
۔۔۔۔۔۔۔

میں اگر بولوں تو دم گھٹتا ہے۔ پر چپ رہنا بھی تو مشکل ہے۔ طویل خیالات پر مختصر الفاظ کے پہناوے پورے نہیں آتے۔ خیالات کو الفاظ دینا ضروری ہے۔ کاغذ پر دکھ اتارنا بھی تو مشکل ہے۔ تخیل کو لفظ دینا اور پھر لفظ کو الفاظ بنانا بہت مشکل ہے۔ دکھ کو تحریر کرنا بھی تو دکھ ہی ہے ۔ وہ عید کے دن پرانی ڈائری کھولے، ایک ایسے صفحے پر رک گئی جو پہلے کھولنے پر تکلیف دیتا تھا پر آج اُسے ہمت ملی تھی۔
*_______________*
آج عید ہے نورے۔۔! اٹھ جاؤ بچے، اتنی دیر تک نہیں سوتے۔ اس کے کانوں میں بابا کی آواز آئی تو گویا خوشی کی ایک لہر دوڑ گئی۔ میری دھی رانی نے تو اچھے کپڑے بھی لیے ہوں گے؟ 
جی بابا پر ویسے نہیں ہیں جیسے آپ نے پچھلے سال دلوائے تھے۔ نور نے منہ بسورتے ہوئے جواب دیا۔ 
عید کے دن اداس نہیں ہوتے میرا بیٹا۔۔! بابا نے سر پر ہاتھ رکھتے ہوئے محبت بھرے لہجے میں کہا ۔۔!
بابا آپ کہاں چلے گئے تھے؟ آنسو آنکھوں کی دہلیز پار کر چکے تھے ۔ کہیں نہیں بابا تو اپنی نور کے پاس ہی ہیں اپنی شہزادی کے پاس۔ بابا کے جواب پر نور نے ان کے سینے پر سر رکھتے ہوئے کہا۔۔۔! اچھا تو اب میری عیدی دیں نا۔۔! اس بار بھی میں ہی سب دوستوں سے زیادہ عیدی لوں گی۔۔ 
نور او نور اُٹھ جاؤ۔! عید کے دن اتنی دیر نہیں سوتے۔ اماں کی آواز پر آنکھیں کھولیں سامنے بابا کو نہ پا کر دوبارہ سے آنکھیں بند کر لیں ۔ بابا آپ کہاں چلے گئے ہیں؟ عیدی تو دیں۔ آنسو اب اب گالوں تک آ گئے تھے۔ 
اٹھ کملی اے سکینہ نے سویاں بھیجی ہیں خود بھی کھا لے بہن بھائی کو بھی دے دے۔ کیا مطلب اماں سویاں خود نہیں بنائی ہیں؟ جب مزید سونا ممکن نہ رہا تو اٹھتے ہوئے اس نے اماں سے سوال کیا۔۔! 
نہ پتر اتنے پیسے کہاں سے آئے؟ تیرے بہن بھائی کو عیدی بھی دینی ہے۔ اماں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا۔۔! اماں کتنے میں بن جانی تھیں؟ ہمیشہ کنجوسی ہی کرتی ہیں۔ نور نے منھ بناتے ہوئے کہا۔۔! اچھا جلدی کرو اٹھ جاؤ پھر تمھارے چاچے کے گھر جانا ہے۔ اماں نے جلدی کرتے ہوئے کہا۔ کیوں چاچو آتے ہیں نا ہر عید پر؟ نور کو جھٹکا لگا۔ تمھارے ابو کے ہوتے آتے تھے اب کہا کہ بھرجائی میری طبعیت ناساز ہے بچوں کو بچوں سے ملنا ہو تو لے آئیے گا۔ اچھا پھر ہمیں نہیں ملنا اس نے دوٹوک لہجے میں کہا۔۔! رشتے ٹوٹ جاتے ہیں بیٹا ہر سال تو آتے تھے اب ہم چلے جائیں گے تو کچھ نہیں ہوتا۔ اماں نے سمجھاتے ہوئے کہا۔
‌اچھا اماں آپ کہتی ہیں تو ٹھیک ہے اس نے عید کے دن پریشان کرنا مناسب نہ سمجھا۔ آپا چاچو کتنے خوش ہوں گے نا؟ عیدی بھی ملے گی۔ مزا آئے گا میں ویڈیو گیم لوں گا۔ شیر جہاں نے چہکتے ہوئے کہا۔ اس بار پھوپھو ملنے نہیں آئی ہیں؟ گل کو اچانک خیال آیا۔ ابا کےلیے جو مٹھائی لاتی تھیں وہ مجھے بہت پسند ہے۔ حالات ٹھیک نہیں ہوں گے۔ اماں نے مثبت سوچنے پر اکتفا کیا۔ نور جو تیرے سلائی کے پیسے رکھے ہیں وہ لے آ کچھ پھل خرید لیتے ہیں۔ خالی ہاتھ جاتے ہوئے اچھے نہیں لگیں گے۔ اماں وہ میرے داخلے کے ہیں۔ نور نے رونے والی شکل بنائی۔ دیکھ تیرا چاچا دے گا نا پھر اس سے تو داخلہ دے دینا۔ اماں نے اسے فورا سے اپنا منصوبہ بتایا۔ اس نے کچھ سوچتے ہوئے پیسے اماں کو لا کر دے دئیے۔ راستے سے پھل خرید کر جیسے ہی وہ گاڑی میں سوار ہوئے۔ عذرا بیگم نے بچوں کو سمجھانا شروع کر دیا۔ اماں ماموں ہر بار آتے تھے اس بار اس ڈر سے نہیں آئے کہ کچھ دینا نہ پڑے نور کی یہ بات عذرا بیگم کو تپانے کےلیے کافی تھی۔ پھر وہ سارا راستہ ماموں کے وہ احسانات گنواتی آئیں جو بہن سے پیسے لے کر ہی بھانجوں پر کرتے آ رہے تھے۔ اس نے مزید کچھ کہنا مناسب نہ سمجھا تو خاموش ہو گئی۔
اماں تین گھنٹے سے کمرے میں بیٹھے ہیں۔ ہم نے عید منانی تھی شیر جہاں نے منھ بسورتے ہوئے کہا۔ نہ پتر باہر اتنی گرمی ہے۔ عذرا بیگم نے سمجھاتے ہوئے کہا۔ اماں میں عفرا کے ساتھ جا کر کچھ کام کروا لیتی ہوں ۔ نور نے اٹھتے ہوئے کہا۔۔! 


کس کلاس میں ہو نورجبیں؟ نور کو کچن میں عفرا کے ساتھ دیکھ کر محمود میاں نے مخاطب کیا۔۔! جی چاچو تھرڈ ائیر کا داخلہ بھیجوں گی اب۔ اچھا ماشاءاللہ اللہ تمھیں کامیاب کریں۔ گل جبین اور شیر جہاں کس جماعت میں ہیں؟ بات سنیے زرا ابھی بات جاری تھی، کہ سلطانہ بیگم نے محمود میاں کو مخاطب کیا۔ تو وہ باہر چلے گئے۔ 
ان کو پیسے دینے کی ضرورت نہیں ہے نور سلائی کر کے بہت کما لیتی ہے۔ اپنے بچوں کا سوچیں ان کے ٹرپ جانے ہیں کچھ دنوں تک اور عفرا کے کالج میں فنکشن بھی ہے۔ تو میں کب دے رہا ہوں اور پہلے کبھی تمھارے بچوں کو کمی دی ہے کوئی ؟ محمود میاں نے تلخ لہجے میں اس کی بات کو ختم کرنا چاہا۔ پر نور کےلیے یہ لفظ جیسے پتھر کی طرح اس پر برسائے گئے ہوں۔ آنکھیں بے اختیار آسمان کی جانب اٹھ گئیں۔ یتیمی کا احساس اسے بہت کمزور کر رہا تھا۔
اماں گھر چلیں اس نے اماں کے پاس آتے ہوئے کہا۔! جی اماں گھر چلیں عید بھی منانی ہے شیر جہاں بےتاب ہو رہا تھا۔ آپا آپ داخلہ کیسے دیں گی؟ گل نے واپسی پر کچھ سوچتے ہوئے سوال کیا؟ اللہ ہیں نا میری جان۔ اللہ کی حکمت لوگوں کی سوچ سے بہت بڑی ہے۔ 
*_______________ *
نور اب نیچے بھی آ جاؤ تمھارے چاچو تمھارا انتظار کر رہے ہیں پھپھو بھی آنے والی ہیں آ جاؤ نیچے۔ اماں کی آواز پر پروفیسر نور جبین ڈائری کا اذیت ناک صفحہ پلٹتے ہوئے نیچے جانے کےلیے اٹھ کھڑی ہوئی وہ کم ظرف ہرگز نہیں تھی۔ آپا عیدیں کتنی اچھی ہوتی ہیں؟ گل نے تیار ہو کر اس کے پاس آتے ہوئے کہا۔۔ جی میری جان عیدیں بہت پیاری ہوتی ہیں پر کوئی عید بابا کے بنا نہ ہو۔ میری شہزادیاں میرے بغیر مزے کر رہی ہیں؟ ڈاکٹر شیر جہاں نے بلند آواز میں کہا تو دونوں اس کی پھیلی باہوں میں سما گئیں کیونکہ برا وقت گزر چکا تھا عید کی خوشیاں ان کے انتظار میں تھیں ۔

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.